بدر مفاہمتی یادداشت؛ پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے

’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ کا مقصد فوجی پیداوار، دفاعی صلاحیتوں اور فوجی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے

ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی معاہدے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے (فوٹو: رائٹرز)

ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون بڑھانے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کردیے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس تاریخی معاہدے ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کی تقریب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوئی۔

اس مفاہمتی یادداشت پرپاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن بن حسن الثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہری نے دستخط کیے۔

ترک وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں چاروں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

ترک وزارت دفاع نے اپنے بیان میں بتایا کہ ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ کا مقصد فوجی پیداوار، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور فوجی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

https://x.com/tcsavunma/status/2112862208585552292?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2112862208585552292%7Ctwgr%5Ed9bf33ee152a31b91d04e3a14e0bbf97deb906cd%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F444313-

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں بھی مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق چاروں ممالک اپنی اپنی دفاعی صنعتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گے۔

ترک وزارت دفاع کے بقول اس تعاون سے دفاعی پیداوار میں بہتری آئے گی اور دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ترکیہ کی دفاعی صنعت کے سربراہ ہالوک گورگن نے معاہدے کو تزویراتی تعاون کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا تبادلہ، مشترکہ ترقی اور مقامی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا پائیدار دفاعی صنعت کے بنیادی عناصر ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ شراکت داری محض تیار فوجی سازوسامان کی خریداری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ متعلقہ ممالک کی افرادی قوت اور صنعتی ڈھانچے کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

واضح رہے کہ ترکیہ نے اگست میں پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

 

Load Next Story