روسی حملوں سے پیشگی اطلاع دینے والی امریکی انٹیلی جنس کی فراہمی بحال ہوگئی؛ یوکرینی صدر
ہماری افواج امریکی امداد کے بغیر بھی روس کے خلاف جنگ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، یوکرین
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی حملوں سے متعلق امریکی انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ مؤثر انداز میں شروع ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی وٹکوف سے ملاقات کے بعد کہی۔
یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ امریکی انٹیلی جنس معلومات اب کام کررہی ہیں اور اس سے بچوں، بڑوں اور عام شہریوں کو بیلسٹک میزائل حملوں سے خبردار کرنا ممکن ہے۔
امریکی حکام نے اوسلو میں ہونے والی بات چیت کو تعمیری اور نتیجہ خیز قرار دیا جبکہ صدر یوکرینی صدر اور ان کے یورپی اتحادیوں کے بقول اب روس کی باری ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کردہ تجاویز پر اپنا ردعمل دے۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے مذاکرات میں حقیقی پیش رفت کا دعویٰ کیا تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ امریکی ایلچی کی تجاویز سنیں گے لیکن سیاسی رعایتیں دینے کے لیے تیار نہیں۔
ادھر ٹرمپ نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرے۔ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور یوکرین کے 20 فیصد علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے روس سے جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اب بھی روسی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔
انھوں نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک سے متعلق مسائل کے حل اور یوکرین کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ یوکرین نے حال ہی میں امریکا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے روسی حملوں سے متعلق اہم انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی روک دی جس کے باعث شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑیں تاہم امریکا نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔