بدر مفاہمتی یادداشت؛ علاقائی امن و استحکام کیلئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی ہے، خواجہ آصف
فوٹو: فائل
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے منصوبے بدر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی قرار دے دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدر مفاہمتی یادداشت علاقائی امن اور استحکام کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہم متعلقہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق خود کفالت، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع تلاش کرنے کے منتظر ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد مشترکہ تحقیق و ترقی، تربیتی تبادلوں اور صنعتی صلاحیت کی تعمیر میں تعاون بڑھانا ہے۔
https://x.com/KhawajaMAsif/status/2112915630475157724/photo/1
دفاعی تعاون بدر منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
قبل ازیں دوحہ میں قطر، پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعتوں میں تعاون کے ’بدر‘ منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس میں چاروں ممالک کے وزرائے دفاع اور متعلقہ دفاعی اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے پاکستان کی نمائندگی کی، ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
قطر کی وزارت دفاع سے جاری بیان کے مطابق بدر منصوبے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار اور دفاعی صنعتوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کا دفاعی صلاحیتیں بڑھانے اور دفاعی شعبے میں مشترکہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت دفاعی تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، بدر منصوبے کے تحت جدید دفاعی ضروریات سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی حل تیار کرنے میں تعاون کیا جائے گا اور چاروں ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے دفاعی صنعتوں میں اشتراک اور استعداد بڑھانے کا ہدف ہے۔
مزید بتایا گیا کہ بدر منصوبہ اتحادی اور دوست ممالک کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور مفاہمتی یادداشت سے چاروں ممالک کے دفاعی صنعتی تعاون، تکنیکی اشتراک اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ ملے گا۔