واشنگٹن مشرق وسطیٰ کے تحفظ کا ضامن نہیں، اپنی حفاظت خود کریں، امریکی سفیر

امریکا، جو گزشتہ 80 برسوں سے دنیا کی سلامتی کا ضامن رہا ہے، اب یہ کردار مزید ادا نہیں کر سکتا

ترکی میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے صدارتی ایلچی، ٹام بیرک نے کہا کہ امریکہ اب تیل کے بدلے مشرقِ وسطیٰ کو تحفظ فراہم کرنے کا اپنا کردار مزید ادا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے پر توجہ دیں۔

دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ ’گلوبل سیکیورٹی فورم‘ جو ایک سالانہ تقریب ہے اور جس میں دنیا بھر سے اعلیٰ سیکیورٹی حکام اور ماہرین شرکت کرتے ہیں، سے خطاب کرتے ہوئے بیرک نے کہا کہ امریکہ، جو گزشتہ 80 برسوں سے دنیا کی سلامتی کا ضامن رہا ہے، اب یہ کردار مزید ادا نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خطے کو ’ترک‘ کر رہی ہے، بلکہ یہ حکمتِ عملی کی ’ازسرِ نو ترتیب ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے نوعمر بچوں کی پرورش کرنا۔

بیرک نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا سیکیورٹی نظام ایک باہمی معاہدے پر مبنی تھا، جس کے تحت امریکہ تیل کی فراہمی کے بدلے تحفظ فراہم کرتا تھا تاہم اب یہ انتظام امریکی پالیسی کی ترجیحات سے ہم آہنگ نہیں رہا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی عوام مشرقِ وسطیٰ کے لیے مزید قربانیاں دینے کے خواہشمند نہیں ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

Load Next Story