ترجمان سندھ حکومت کا وسیم اختر کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جب بھی سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہوتی ہے، لسانیت اور تقسیم کی سیاست شروع کر دیتی ہے۔ اپنی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے لسانی نفرت اور تعصب کو ہوا دینا ایم کیو ایم کا پرانا سیاسی حربہ ہے۔ سندھ دھرتی کی تقسیم کے خواب دیکھنے والے یاد رکھیں، سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے خواب دیکھتے دیکھتے ایم کیو ایم پاکستان خود دھڑے بندیوں اور اندرونی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، ایک دوسرے پر سنگین الزامات اور باہمی تصادم کی تاریخ رکھنے والے آج سندھ کی وحدت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سندھ دھرتی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے، اس کی تقسیم کے نعرے لگانے والوں کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
سعدیہ جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاق اور سندھ کے درمیان محاذ آرائی اور لسانی کشیدگی پیدا کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور سیاسی جواب دیں گے۔ وسیم اختر کی پریس کانفرنس عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ میرٹ کا درس دینے والے کراچی میں بوری بند لاشوں، بھتہ خوری، چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضوں کے تلخ ماضی پر بھی جواب دیں۔
ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ شہر کو لسانی سیاست، خوف اور بدامنی کے دور سے کیا ملا؟۔ تعلیمی اداروں کو لسانی سیاست کا میدان بنانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سندھ کی جامعات علم اور امن کے مراکز ہیں۔ سندھ حکومت صوبے کی جامعات کی خودمختاری، تعلیمی وقار اور طلبہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہسرکاری ملازمتوں میں میرٹ اور شفافیت ہمارا مؤقف ہے، سندھ کا ہر اہل نوجوان بلاامتیاز روزگار کے مساوی مواقع کا حقدار ہے۔ عوام کو اندرونِ سندھ اور شہری سندھ کے نام پر تقسیم کرنے کی فرسودہ سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی تعمیر و ترقی اور عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، الزام تراشی اور اشتعال انگیز بیانات حقائق کا متبادل نہیں۔