ہم ہر سال نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی پیدا کرتے ہیں،ہر 5 سال میں ایک آسٹریلیا بناتے ہیں، وزیر صحت
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں یہ سنجیدہ بحث ہے کہ انتظامی یونٹ بناکر اسپتالوں اور جامعات کو ترقی دی جائے، اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ موجودہ نظام سے بہتری آئی ہے یا مزید ابتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8884 ارب روپے وزرائے اعلی کو دیے گئے ہیں یہ پیسے کسی کو نہیں دینے صرف سوشل سیکٹر کو، ترقی کرنی ہے پھر یہ یہ حشر ہے، سوچنا ہے ملک بچانا ہے یا لوگوں کی خواہشات کو بچانا ہے،2صوبوں میں جنگ چل رہی ہے پڑوسی ملک دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے، بیڈ گوررنس بجلی، پانی اور سڑکیں پیدا نہیں کرتی، یہ نظام لوگوں کو غدار بنارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے زمانے میں 300 ارب خرچ ہوئے دنیا کا 12واں اچھا شہر تھا اب بڑے شہروں کو رینکنگ میں کراچی کا تیسرا نمبر ہے، 22 ہزار ارب روپے انھیں دیے جاچکے ہیں، جامعہ کراچی ہماری ماں ہے یہاں کے طلبہ کو اچھی ڈائریکشن دیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بہت کم وقت میں نئے وائس چانسلر نے جامعہ کراچی کے مسائل کی شناخت کرلی ہے انھیں ڈائگنوس کیا ہے، جامعہ کراچی اس شہر کا لینڈ مارک ہے ، مجھے امید ہے کہ یہاں تبدیلی آئے گی جو کراچی شہر کا حشر ہے وہی اس جامعہ کا حشر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے ہنی مون کا وقت ختم ہوچکا ہے، کراچی یونیورسٹی اگر نرسنگ کالج کھولنا چاہتی ہے تو فوری نرسنگ کونسل کا اجلاس بلاؤں گا، بیرون ملک پاکستان سے ساڑھے 5 ہزار اور پڑوسی ملک سے ساڑھے 5 لاکھ نرسز گئے ہوئے ہیں، دنیا میں 25 لاکھ پاکستان میں 9 لکھ نرسز کی ضرورت ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ 2023 میں مردم شماری ہوئی ہم ہر سال نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی پیدا کرتے ہیں اور ہر پانچ سال میں ایک آسٹریلیا بناتے ہیں،جہاں جہاں ترقی آئی ہے وہاں پیدائش کی شرح کم ہوئی ہے،بڑھتی ہوئی آبادی وسائل، سے میل نہیں کھاتی ہر سال 6.7 ملین بچے ہر سال پیدا ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ہیلتھ سیکٹر کا یہ حال ہے کہ کراچی کے سب سے بڑے نجی اسپتال کی ایمرجنسی میں تین سے چار گھنٹے کی ویٹنگ ہے، ہر اسپتال اوور کرائوڈڈ ہے، ہمارے صحت کا نظام برباد ہونے کے قریب ہے، اسپتال بنانا ہیلتھ کیئر نہیں سک کیئر ہے، ہیلتھ کیئر آبادی پر کنٹرول کا نام ہے صاف پانی دینے کا نام ہے ہیلتھ کیئر اکیلا وفاقی وزیر یا وزیر اعظم نہیں کرسکتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2 کروڑ 60 لکھ بچے اسکول نہیں جارہے جو اسکول جارہے ہیں ان میں سے بہت سارے بچے دو سطر پڑھ نہیں سکتے، ہر سال 11 ہزار مائیں مر جاتی ہیں 1300 بچے روزانہ مرتے ہیں،43 فیصد غذائی قلت کا شکار ہیں، ہم اپنے بچوں کو کشتیوں میں بٹھاکر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجتے ہیں۔