پاکستان کی ترقی نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنائے بغیر ممکن نہیں، مصطفی کمال

موجودہ حالات سے صرف چند درجن خاندانوں کو فائدہ ہوا، باقی ملک مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، وفاقی وزیر صحت

کراچی:

وفاقی وزیر صحت  مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنائے بغیر ممکن نہیں۔

کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری فارما ایشیا انٹرنیشنل 2026 ایگزیبیشن کے اختتامی روز وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے مختلف کمپنیوں کے اسٹالز کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتنے مشکل حالات میں بیرون ملک سے فارما کمپنیز کو لانے والوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انتظامیہ کا کردار قابل تحسین ہے، اسی طرح سے ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ا یسے ایونٹس سے ہی ممالک نے ترقی کی ہے، پاکستان بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں بہت سے مسائل خراب گورننس کی وجہ سے ہیں ، کیونکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے۔ 100 فیصد میں سے کراچی کو صرف 3 فیصد ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نئے انتظامی یونٹس بنیں گے، جن کے قیام سے مسائل حل ہوں گے۔ ایک وقت آئے گا جب مختلف مقامات پر بیک وقت ایکسپو منعقد ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ  ایم کیو ایم پہلے سے زیادہ مسائل پر بات کر رہی ہے اور یہ کسی ایک گروپ کا نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی کا معاملہ ہے۔ انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اختیارات نہ ملنے سے مشکلات بڑھی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات سے صرف چند درجن خاندانوں کو فائدہ ہوا، جبکہ باقی ملک مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ کراچی آج بدترین رہنے والے شہروں میں شامل ہے، جبکہ میرے دور میں یہ ترقی یافتہ شمار ہوتا تھا۔

ویکسین سے متعلق گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خریداری میں بے قاعدگیوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں اور اس معاملے پر وضاحت عدالت میں سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد کم ہونے کے باوجود پارٹی نے ہمیشہ تمام مسائل پر بات کی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو ماہ قبل ملین ڈالرز کے معاہدے کیے گئے ، ویکسین کے لیے چین سے بھی رابطہ کیا گیا۔ پہلی ویکسین پالیسی بھی متعارف کرائی گئی تھی۔

Load Next Story