ایران جنگ ٹرمپ کیلیے ڈراؤنا خواب بن گئی؛ سینیٹ الیکشن میں 10 نشستوں پر شکست کا خوف
(فوٹو: فائل)
امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سینیٹ کی 10 نشستیں اہم مقابلوں کا مرکز بن گئی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے تجزیے کے مطابق ایران جنگ کے معاشی اثرات، مہنگائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت انتخابی مہم پر اثر انداز ہورہے ہیں۔
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے امیدواروں کو حکمراں جماعت ریپبلکن کے ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں پر سبقت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر اپنے حریف مائیکل واٹلی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں، جبکہ اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن اور جون ہسٹڈ کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ الاسکا میں میری پیلٹولا اور ڈین سلیوان کی نشست بھی توجہ کا مرکز ہے۔
مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن سے سخت چیلنج درپیش ہے۔ ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو اور کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ بھی قریبی ہے، جبکہ مشی گن میں عبدالسید اور مائیک راجرز کی دوڑ پر سب کی نظریں ہیں۔
آئیووا میں جوش ٹورک اور ایشلے ہنسن، کنساس میں ایڈم ہیملٹن اور راجر مارشل، نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس اور جان سنونو، جبکہ جارجیا میں جون اوسوف اور مائیک کولنز اہم امیدوار ہیں۔
سی این این نے نیبراسکا، جنوبی کیرولائنا، مینیسوٹا اور مسیسیپی کو بھی ایسی ریاستوں میں شمار کیا ہے جہاں غیر متوقع نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ان انتخابات سے طے ہوگا کہ کانگریس کے ایوانِ بالا میں کس جماعت کو برتری حاصل ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان 10 نشستوں پر انتخابی تشہیر کے لیے دونوں جماعتیں آخری دو ہفتوں میں مجموعی طور پر 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کررہی ہیں اور پلڑا ڈیموکریٹس کا بھاری نظر آتا ہے۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی یہ درجہ بندی تازہ انتخابی جائزوں اور سیاسی حالات پر مبنی ہے اور ووٹنگ سے پہلے صورت حال تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔