کل ہماری فوج کے سربراہ نے سیکیورٹی بریفنگ دی، مکمل پلان دیا گیا، گورنر خیبرپختونخوا
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مشاورتی کونسل کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسر کے بچوں کی گمشدگی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، آئی جی خیبرپختونخوا بھی خود اس معاملے پر کام کررہے ہیں، سیکیورٹی کے حوالے سے جتنے فنڈز ہمیں درکار ہیں وہ انکو دئے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے جب پاکستان کے خلاف بیان آتے تھے انکی جرات نہیں تھے کہ کوئی مزمتی بات کرتے، ان کا طوطا وہاں ہے، افغانستان کے خلاف کیا بیان دیتے، ہم باضابطہ آڈٹ کریں گے،جس نے صوبے کے زیادتی کی ہے اس پر ایکشن ہوگا ، پشاور کو پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا کوئی ایک پھول نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تمام توجہ پوسٹنگ ٹرانسفر اور ایسے معاملات پر رہی، معدنیات کے حوالے سے سیاسی لوگوں کو کچھ پتہ نہیں اب اس پر بات کررہے ہیں، مولانا میرے علاقے کے ہیں وہاں کونسی معدنیات ہیں ، اگر کوئی معدنیات ہیں تو ان کی ڈسکوری ظاہر کی جائے گی، ہم پہلے اپنے صوبے کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہمارے صوبے میں ٹورازم کے حوالے سے قدیم ترین آثار قدیمہ ہیں ، لیکن جب صوبے میں امن ہوگا تو تب ہی ٹور ازم ہوگا، گزشتہ این ایفچسی ایوارڈ میں ہمیں ایک فیصد ملا، اگر پولیس کو اسلحہ اور دیگر سامان نہیں ملا تو یہ 800 ارب کہاں گے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت وفاق سے مقدمہ لڑتی ہی نہیں تھی ، اس 800 ارب روپے جو وفاق سے آئے ہیں انکی چھان بین کریں گے، وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے ہمیں 107 ارب روپے دئے، ان میں سے 70 فیصد فنڈز ضم اضلاع کو دئے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پانی تیل و گیس جو بھی مقدمہ ہے اس پر بیٹھیں گے ، گندم کی کم فضل ہونے کے باوجود وزیراعظم نے کہا کے پی کو انکا کوٹہ دیا جائے گا، لیکن میں بلیک مافیا کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اب کوئی بھی غلط بلیک میں کاروبار نہیں کیا جائے گا، ایمرجنسی کے حامل اضلاع میں تمام قوموں سے ہم سے چناو کیا ہے، لوگوں کو اعتراض ہوسکتا ہے ،لیکن کوئی سیاسی بنیاد پر پوسٹنگ ٹرانسفر نہیں ہوگا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان علاقوں میں کوئی بھی اسکیم بھی سیاسی بنیادوں پر نہیں ہوگی، پہلے صوبائی اسمبلی میں کمیٹی بنائی اور اسپیکر نے کہا جرگہ لیکر جائیں گے،ہم انکے ساتھ تھے، جو بھی ہمارے صوبے کا شیئر ہوگا اسکے لئے ہم وفاق سے لازمی مقدمہ لڑیں گے، یہ مشترکہ ذمہ داری ہے،جتنے بھی ہمارے پازیٹو منصوبے ہیں انکو نہیں روکیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر کوئی گھر بیٹھ کر تنخواہ لینا چاہتا ہے تو کسی اور کی نوکری کرے ، ہم اس حوالے سے بھی معاملات کو دیکھ رہے ہیں، پولیس کو جو کچھ چاہیے وہ انکو لازمی دیا جائے گا ، اب ہم ٹریفک پولیس کے مسائل بھی دیکھ رہے ہیں،صرف 23 ہزار رکشے رجسٹرڈ ہیں، باقی بغیر رجسٹریشن کے چل رہے ہیں،اب اس ٹریفک کے نظام کو بھی جلد ٹھیک کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بدلتا نکھرتا کے پی کی جانب جارہے ہیں ، جو پانی پر 1991 میں واٹر ایکارڈ ہوا تین صوبوں کو شیئر مل گیا، اس معاملے پر وفاق نے ہمارا کیس سنا اور تسلیم کیا ہے، خیبرپختونخوا کی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ بدلتا نکھرتا خیبرپختونخوا میں ہمارے ساتھ تعاون کرے، تاکہ ہمارے بچے ایک پرسکون و امن کے ماحول میں رہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تجاوزات کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ کسی نے نوٹس نہیں دیا ، لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ جس نے بھی ناجائز قبضہ کیا ہے، چاہے کوئی بھی سفارش ہو لیکن کسی طور پر بھی رعایت نہیں دی ڈی جائے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشت پر کو ئے کمپرومائز نہیں ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر جائیں، کوئی بھی انوسٹر کسی بھی خراب صورتحال میں کام نہیں چاہتا، میں ایمل ولی اور آفتاب شیرپاو کے پاس گیا، جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر بھی گیا صوبے کے امن و امان پر بات کی، ہم نے ایپکس کمیٹی میں بھی باضابطہ بات کی جسکو فوری مانا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہمیں مزید فنڈز کی فراہمی کا یقین دلایا ہے، اضاخیل گندم کے حوالے سے باضابطہ ہم نے انکوائری مقرر کی ہے، سب کچھ جلد سامنے لایا جائے گا ، جس نے کرپشن کی اسکے مسائل لو بھی سامنے لائیں گے، ہم نے مضبوط مستحکم خیبرپختونخوا بنانا ہے ، جس نے اس میں شامل ہونا ہے اسکو ہم ویلکم کہتے ہیں، جس نے شامل نہیں ہونا اسکو چاہیے کہ وہ الگ ہوجائے۔
کل صوبے کےلئے اہم دن تھا، ایپکس کمیٹی کو چیئر وزیراعظم نے کیا، پہلی بار تمام وفاقی وزراء اور سیکٹریز شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے فوج کے سربراہ نے ہمیں سیکیورٹی کی بریفنگ دی، ہمیں مکمل پلان دیا گیا، ہم نے جو ڈیمانڈ کی وہ فوری طور پر تسلیم کی گئی، ہمیں 360 ارب روپے کی فوری منظوری دی گئی۔