قتل کیس میں ملزم کی قبل ازوقت رہائی اور معافی سے متعلق کیس کا فیصلہ، رہائی قانون کے خلاف قرار

عدالت نے ملزم کو دوبارہ حراست میں لینے کا حکم  جاری کردیا، پولیس نے ملزم کو دوبارہ حراست میں لیکر جیل منتقل کردیا

فوٹو: فائل

سپریم کورٹ پشاور ( اپیلٹ جوریسڈکشن) میں قتل کیس میں نامزد ملزم کی قبل ازوقت رہائی اور معافی سے متعلق کیس کا سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مختصر حکم نامہ جاری کردیا۔

عدالت نے اپیل کنندہ کی رہائی قانون کے خلاف قرار دیا ہے، عدالت نے ملزم کو دوبارہ حراست میں لینے کا حکم  جاری کردیا، پولیس نے ملزم کو دوبارہ حراست میں لیکر جیل منتقل کردیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ اپیل کنندہ کو فوری طور پر تحویل میں لیا جائے اور قانون کے مطابق اپنی باقی ماندہ سزا پوری کرنے کے لیے متعلقہ جیل بھیج دیا جائے۔

ریکارڈ کے جائزے سے انکشاف ہوا کہ اپیل کنندہ مجرم کو خیبر پختونخوا پریزن رولز، 2018 کے تحت معافی دینے کے بعد رہا کیا گیا تھا، مذکورہ معافی اور رہائی پرزن ایکٹ 1894 کے مطابق نہیں دی گئی تھیں۔

حکم نامے کے مطابق ڈپٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اس بات کااعتراف کیا اور اس ضمن میں ایک تحریری رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی، ان تمام حقائق اور شواہد کی روشنی میں اپیل کنندہ مجرم  کی رہائی موجودہ قانون کے خلاف ہے، اپیل کو میرٹ پر باقاعدہ سماعت کے لیے دس دن کے بعد اسلام آباد کے پرنسپل سیٹ پر دوبارہ مقرر کیا جائے۔

Load Next Story