حنا جاوید کیس سے متعلق مریم نواز کا اہم بیان، جنسی زیادتی کیس میں 2 کروڑ کی پیشکش کا بھی انکشاف
حنا جاوید ہائی پروفائل قتل کیس سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اہم بیان سامنے آگیا۔
یہ ردعمل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سینئر صحافی مبشر زیدی کی توجہ دلانے والی ٹویٹ پر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ حنا جاوید قتل کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں، ڈی این اے اور پولی گراف ٹیسٹ کے نتائج قتل اور زیادتی میں گھریلو ملازم کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ حنا جاوید قتل اور زیادتی کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
I am keeping a close watch. The DNA test results and polygraph test suggest that the murder and rape were committed by the servant, however the investigation is ongoing. Thank you. https://t.co/kVZ8WwvlNg
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 24, 2026
اس کے علاوہ اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ زیادتی کے ایک حالیہ مقدمے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کے امیر خاندان نے مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کو اپنے الزامات واپس لینے کے بدلے میں ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے حالانکہ دفعہ 164 کے تحت متاثرہ خاتون کا بیان پہلے ہی قلمبند کیا جا چکا تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جس جج نے زیادتی کے کیس میں ملزم کی ضمانت منظور کی ہے اسے بھی رشوت دی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس سے نظامِ انصاف کی دیانت داری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین مالی دباؤ اور طاقت کے غلط استعمال کے سامنے کس قدر غیر محفوظ ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ ایسے مقدمات پر گہری نظر رکھیں گی تاکہ یقینی بناسکیں کہ زیادتی کرنے والا کوئی بھی مجرم پیسے، اثرو رسوخ اور تعلقات کے بل بوتے پر گرفت سے بچ نہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کبھی بکنے کی چیز نہیں ہونا چاہیے، اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
In a recent rape case, it was revealed that the accused’s wealthy family allegedly offered 1.5–2 crore to the victim in exchange for withdrawing her allegations, despite her statement already having been recorded under Section 164. It was further alleged that the judge who…