پیٹرول کی عالمی منڈی میں کہرام؛ خام تیل 117 ڈالر کا ہوگیا
پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور ذخائر میں کمی سے امریکیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل اور آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملوں نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں آگ لگا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ کروڈ نیویارک ٹریڈنگ کے دوران 3.8 فیصد اضافے سے 117.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچا بعد میں 116.72 پر بند ہوا۔
یہ اپریل کے بعد بلند ترین سطح ہے اور صرف اکتوبر میں تیل 10 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 103.27 ڈالر پر پہنچ گیا۔
وجہ کیا بنی؟
ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ اس ہفتے آبنائے ہرمز میں 7 آئل ٹینکرز یا تو حملوں کا نشانہ بنے یا بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔
پاسداران انقلاب نیوی نے کہا 2 سپر ٹینکرز جن پر 45 لاکھ بیرل تیل تھا غیر مجاز جنوبی روٹ پر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ناکارہ ہو گئے۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب میں آرامکو کے شیبہ فیلڈ اور دھران ہیڈکوارٹر پر حملے کیے، جس کے بعد آرامکو کو عملہ نکالنا پڑا۔ امریکہ نے ریاض سے اپنے سفارتی عملے کو بھی نکال لیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے فلوریڈا ریلی میں کہا ہم ایران پر ایک اور ایپک فیری آپریشن دہرا سکتے ہیں سکتے جس نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں خوف بڑھا دیا تھا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں آئل تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا تو پیٹرول 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔ وار رسک انشورنس جو پہلے 1 فیصد سے کم تھی اب 10 فیصد تک پہنچ گئی جس کا 7 ڈالر کا بوجھ ہر بیرل پر پڑ رہا ہے۔