ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردی

ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط پرآبنائے ہرمز کو کھولنے کی پیشکش بھی کی

ایران امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار، آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش، پاکستان کا سفارتی کردار اہم

ایران نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران سفارتی حل کے لیے تیار ہے لیکن امریکا کے موجودہ اقدامات مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

ایرانی سفیر کے مطابق حال ہی میں پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغام پہنچایا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردے تو ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے تاہم امریکی صدر نے ناکہ بندی برقرار رکھنے پر اصرار کرکے تجویز کو مسترد کردیا۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں معاہدہ

ایرانی سفیر کے مطابق جون میں پاکستان اور قطر کی مدد سے طے پانے والے عبوری معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر وسیع تر مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔

رضا امیری مقدم نے بتایا کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اپنی آمادگی سے آگاہ کیا تھا، بشرطیکہ امریکا ناکہ بندی ختم کرے۔

مکہ دفاعی معاہدے پر ایران کا مؤقف

ایرانی سفیر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اس معاہدے کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ اس کی حمایت کرسکتا ہے یا نہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے اگست 2026 میں اس دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون اور ممکنہ جارحیت کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق معاہدہ علاقائی امن و استحکام کے لیے دفاعی نوعیت کا ہے۔

خطے میں سفارتی کوششیں جاری

پاکستان نے پہلے بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

تاہم، ایران کی تازہ پیشکش پر واشنگٹن کی جانب سے کسی نئے معاہدے یا ناکہ بندی ختم کرنے کی باضابطہ منظوری کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔


Load Next Story