الیکشن سے 2 روز قبل نیتن یاہو کی چال؛ اسرائیل پر ایران کے ایٹمی حملے کی تصویر شیئر کردی
یتن یاہو نے تل ابیب پر ایٹمی دھماکے کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کردی
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے انتخاب سے دو روز قبل تل ابیب پر ایٹمی دھماکے کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کردی۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کے جوہری خطرے سے متعلق خبردار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر شیئر کی ہے جس میں تل ابیب جیسے گنجان آباد شہر کے اوپر ایٹمی دھماکے سے اٹھنے والا دیوہیکل بادل دکھایا گیا ہے۔
یہ تصویر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی تھی، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے انہیں انتخابی مہم میں خوف پھیلانے کا الزام دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اتوار 25 اکتوبر کو اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر یہ تصویر شیئر کی، جبکہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے والے ہیں۔
نیتن یاہو نے تصویر کے ساتھ اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل کو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے وجودی خطرات لاحق ہیں اور ملک کی سلامتی کے حوالے سے صورت حال مزید خطرناک ہو چکی ہے۔
תקראו את הדברים החשובים של יובל בלומברג:
— Benjamin Netanyahu - בנימין נתניהו (@netanyahu) October 25, 2026
מדינת ישראל נמצאת בסכנה קיומית אמיתית ומוחשית. אם האיראנים ישיגו גרעין, שום דבר כבר לא ישנה יותר. הכל כל כך טפל אל מול הסכנה הקיומית של איראן והציר השיעי.
הסערות המבוימות והמומצאות חדשות לבקרים נועדו להסיט את תשומת הלב מהדבר האחד שהוא… pic.twitter.com/v6L73s0bFO
انہوں نے لکھا کہ یہ حیران کن ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا بلکہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لاحق وجودی خطرے کے باعث حالات پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ نئی پیش رفت اور سامنے آنے والے حقائق کا تقاضا ہے کہ عوام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر سب سے اہم معاملے پر توجہ دیں یعنی ایران میں کارروائی کو ختم کرنا۔
نیتن یاہو کی پوسٹ میں تصویر کے مقام کی واضح طور پر نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم منظر تل ابیب شہر سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی اس پوسٹ پر اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر گولان نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے تل ابیب پر ایٹم بم گرنے کی تصویر شائع کی ہے اور انہیں سوشل میڈیا سے دور رکھا جانا چاہیے۔
یائر گولان نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور وہ اپنا کنٹرول کھوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق منگل کو ہونے والے انتخابات میں خوف پھیلانے والوں کو تبدیل کرکے اسرائیل میں سلامتی اور معمول کے حالات بحال کیے جائیں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے بھی نیتن یاہو پر انتخابی مہم کے دوران خوف پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو ایک بار پھر خوف پر مبنی انتخابی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں اور ہر انتخاب کے موقع پر جھوٹ اور خوف پھیلانے کا یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
آئزن کوٹ نے ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کا الزام بھی نیتن یاہو پر عائد کیا اور کہا کہ اسرائیلی عوام دو روز بعد ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سنائیں گے۔