امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا باقی سب کو فوری سعودیہ چھوڑنے کا حکم
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی 30 سالہ امریکا سعودیہ جوہری معاہدے کی منظوری دی تھی
امریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ یہ حکم 23 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری سکیورٹی الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے جس کے باعث شہریوں کی سلامتی اور فضائی سفر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال کے لیے خصوصی اجازت لازمی
امریکی سفارت خانے کے مطابق سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو مملکت کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے پہلے چیف آف مشن سے خصوصی اجازت لینا ہوگی۔
سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ مزید میزائل اور ڈرون حملوں، فضائی حدود بند ہونے، پروازیں منسوخ ہونے اور سفری نظام میں خلل پڑنے کا امکان موجود ہے۔
حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ہوائی اڈے جانے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورتِ حال معلوم کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتیں۔
ریاض ایئرپورٹ جزوی طور پر بحال
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 25 اکتوبر کو محدود پیمانے پر آپریشنز بحال کرنے کا اعلان کیا۔ اس دوران اندرونِ ملک پروازوں اور سعودی قومی ایئرلائنز کی بعض بین الاقوامی پروازوں کو اجازت دی گئی۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق، ریاض ایئرپورٹ پر عام طور پر موجود رہنے والی چند پروازیں قصیم کے شہزادہ نایف بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی چلائی جا رہی ہیں۔
مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بکنگ اور روانگی کے اوقات کی تصدیق کیے بغیر ایئرپورٹ کا رخ نہ کریں۔
جدہ اور دمام ایئرپورٹس پر بھی تاخیر
امریکی سفارت خانے کے مطابق، جدہ کا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ فعال ہیں، تاہم وہاں بھی بعض پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات ہیں۔
یہ سفری ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات برقرار ہیں۔
عام مسافروں کے لیے اہم ہدایت
سعودی عرب جانے یا وہاں سے دوسرے ممالک کا سفر کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی ایئرلائنز اور متعلقہ ہوائی اڈوں سے تازہ معلومات حاصل کریں۔ سکیورٹی صورتِ حال میں کسی بھی تبدیلی کے باعث پروازوں کے اوقات اور فضائی آپریشنز متاثر ہوسکتے ہیں۔