سربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکست

نتائج کے اعلان کے بعد بلغراد سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور جیت کا جشن منایا

فوٹو: بی بی سی

BELGRADE:

سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے سیاسی میدان میں بڑی کامیابی حاصل کرلی طویل عرصے سے بااثر رہنما الیگزینڈر ووچچ نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، جس کے بعد ملک بھر میں جشن منایا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دائیں بازو کے عوامیت پسند رہنما ووچچ نے اتوار کی رات اعتراف کیا کہ اگرچہ انتخابی نتائج ابھی حتمی نہیں ہوئے تاہم ان کی جماعت انتخابات ہار چکی ہے۔

انتخابی کمیشن کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا، جسے مبصرین طلبہ تحریک کے لیے فائدہ مند قرار دے رہے تھے۔

یہ انتخابات دو سال سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد منعقد ہوئے۔ احتجاج کا آغاز نووی ساد شہر میں ریلوے اسٹیشن کی چھت کا سائبان گرنے سے ہوا تھا جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے نے ملک میں مبینہ بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے خلاف غم و غصے کو جنم دیا۔

ووچچ دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں اور آئینی مدت کی پابندی کے باعث تیسری بار صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی سربیئن پروگریسو پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے دوبارہ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم اب انہیں انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

طلبہ تحریک کے امیدوار الیا سردانووچ نے کہا کہ سربیا ایک آزاد ریاست بنے گا جبکہ تحریک کے رہنماؤں نے ملک کو مبینہ جبر سے آزاد کرانے اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔

نتائج کے اعلان کے بعد بلغراد سمیت مختلف شہروں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے رقص کیا، نعرے لگائے، گاڑیاں ہارن بجاتی رہیں اور آتش بازی کے ذریعے خوشی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے اس کامیابی کو ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم موڑ قرار دیا۔

Load Next Story