مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن، کون جیت رہا ہے؟ خواجہ سعد رفیق نے سوال اٹھا دیے
سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سوال اٹھایا ہے کہ مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن میں سے کون جیت رہا ہے؟
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے لکھا کہ جیت ، کون رہا ہے؟۔ مقتدرہ ، حکومت یا اپوزیشن ، کون ؟ کوئی بھی نہیں ۔ بدقسمتی سے نا انصافی ، غربت ، لا قانونیت ، انتشار ، انتقام ، تعصبات ،آمرانہ رویے اور انتہا پسندی بڑھ رہے ہیں، جیت رہے ہیں۔ ان سے کون لڑے گا ؟ کون فاتح ہوگا؟۔
انہوں نے کہا کہ ان عذابوں سے لڑ کر جیتنے کے ذمہ دار تو آپس میں گُتھم گُتھا ہیں۔ قوم کو نجات کون ، کب اور کیسے دلائے گا؟۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق کیوں نہیں سیکھا جا رہا؟۔ واضح ہونا چاہیے کہ اناؤں اور ذاتی و گروہی مفادات کے لیے اپنی توانائیاں اور وسائل اندرونی جھگڑوں میں ضائع کرنے والے نجات دہندہ نہیں ہو سکتے ۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آٹھ دہائیوں سے ارتکاز اختیار اور اپنے مخالفین کو ہر قیمت پر نیچا دکھانے کا گھناؤنا کھیل کھیلا گیا ۔ لوگوں کی برداشت اور صبر جواب دے چکے ہیں۔ چنگاریوں کے بارود کے ڈھیر پر گرنے سے پہلے بچا جائے۔ ملک کے تمام حصوں اور کونوں سے اہل دانش اور اہل درد آواز بلند کریں ، آئین کی بالادستی اور قومی پرچم کی حُرمت پر یقین رکھنے والے اکٹھے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بیداری کی لہر پیدا کریں، ایمان آئین انصاف امن اتحاد اصلاحات استحکام کا علَم بلند کریں۔ ایک دوسرے سے ڈرنا ، بدکنا یا لڑنا قوم کے بیچ گہری دراڑیں ڈال دیتا ہے ، پھر ایک زلزلہ ہی تباہی کے لیے بہت ہو جاتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئین ، قانون اور میرٹ کی حکمرانی ، عام آدمی کی نمائندہ جمہوریت ، مکالمے اور انصاف کے ذریعے تنازعات کا حل ، شفاف حکمرانی ، مالیاتی ڈسپلن کا نفاذ ہی ہمیں منزل مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔ ذرا سوچیے!