نیتن یاہو کا الیکشن سے قبل ایران پر حملے کا منصوبہ؛ موساد چیف اور سینیئر افسران میں ٹھن گئی
اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے سربراہ ایران پر حملے کے منصوبے پر عمل درآمد کیلیے تیار (فوٹو: فائل)
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین اور ادارے کے سینئر حکام کے درمیان ایران پر انتخابات سے پہلے حملہ کرنے کے منصوبے پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔
اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق موساد کے سربراہ گوفمین اپنے وزیراعظم نیتن یاہو کے الیکشن سے قبل ایران پر حملے کے حق میں ہیں لیکن خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام نے اس کی مخالفت کی۔
اسرائیلی اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے سینیئر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ موساد کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایران پر فوری حملے کے وقت اور اس کے اسرائیلی انتخابات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض حکام نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا سیاسی مفادات کو قومی سلامتی کے معاملات کے ساتھ ملایا جارہا ہے۔
موساد کے سربراہ رومن گوفمین اس سے قبل نیتن یاہو کے فوجی سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وزیراعظم نے انھیں رواں سال جون میں موساد کا سربراہ مقرر کیا تھا۔
رپورٹ کے ردعمل میں خفیہ ایجنسی موساد نے کہا کہ ادارہ اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والی خفیہ کارروائیوں یا بند کمرے میں ہونے والی بات چیت پر تبصرہ نہیں کرتا۔
تاہم بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارے کی قیادت میں مختلف آرا پر مبنی پیشہ ورانہ مکالمہ معمول کا حصہ ہے اور اسے اختلاف یا کشیدگی کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارہ اسرائیل اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے کام کرتا ہے اور اسے سیاسی بحث میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا میں یہ دعوے بھی سامنے آئے تھے کہ نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر کے درمیان انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اس نوعیت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا۔