پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، ڈی چوک پر مرکزی تقریب

پاکستان کشمیر کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا، اسحاق ڈار

اسلام آباد:

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔

یوم سیاہ جموں و کشمیر کی مناسبت سے اسلام آباد ڈی چوک پر وزارت امور کشمیر کی جانب سے خصوصی تقریب کا اہتمام  کیا گیا، تقریب میں سائرن بجا کر 1 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہم ہر سال یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس کا مقصد دنیا کو بھارت کے بھیانک قدم سے آگاہ کرنا ہوتا ہے، یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ دنیا میں کشمیری عوام کی آواز بلند کریں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مسئلہ ہم نے دنیا کے ہر کونے میں اجاگر کیا ہے، او آئی سی کے 57 ممالک میں ہم نے اس عنوان کو اجاگر کیا، دنیا اس مسئلہ کشمیر کو بھولی نہیں ہے، بھارت نے 5 اگست 2019 کو اس مسئلے کو مزید گھمبیر کر دیا، جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا ائین کے منافی تھا، بھارتی اقدامات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا ہے، بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے، اسی باعث غیر ملکی مندوبین کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اس لیے کہ دنیا بھارت کے مظالم جان نہ لے۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان ہر فورم پر مسلہ کشمیر پر بات کرتے آئے ہیں، حال ہی میں شنگھائی میں ہم نے کشمیر کے لیے آواز بلند کی، ہم یو این جنرل اسمبلی سمیت ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنتے ہیں، ہمارا یقین ہے کشمیریوں کو جلد انکا حق ملے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے بہن بھائیوں کی آواز بنتا رہے گا، پاکستان کشمیر کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جو اسلام آباد کے ڈی چوک میں عوام کا جم غفیر دیکھ رہا ہوں مجھے یقیں ہو رہا کہ کشمیر جلد آزاد ہو گا، کشمیری عوام کو ہر صورت انکا حق واپس دینا ہو گا۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 ایک بدترین دن تھا جب بھارت نے زبردستی کشمیر پر قبضہ کیا، 80 سال ہو گئے مگر کشمیری عوام کا حوصلہ پست نہیں ہوا، 97 ہزار سے زائد شہری وہاں شہید ہو چکے ہیں، کتنی بہنیں بیوہ ہو گئیں اور بچے یتیم ہو گئے، ان تمام مظالم کے باوجود کشمیریوں کے دل میں اپنا حق لینے کا جذبہ موجود ہے۔

27 اکتوبر 1947

اس روز بھارت نے سری نگر میں اپنی فوجیں اتار کر کشمیر پر فوجی قبضے کا آغاز کیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو اجاگر کرنا ہے۔

یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد کشمیری بھی ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

ان مظاہروں اور سرگرمیوں کا مقصد عالمی برادری سے مطالبہ کرنا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔

مظفرآباد میں بھی یوم سیاہ کے سلسلے میں شاہراہ سری نگر پر کنٹرول لائن کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ مارچ کے شرکا ضلع جہلم ویلی کے علاقے ہٹیاں بالا میں بھارت کے خلاف احتجاج کریں گے۔

صدر مملکت کا یوم سیاہ کشمیر پر پیغام

یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء ہمیں اس المناک دن کی یاد دلاتا ہے جب بھارتی افواج سرینگر میں اتریں اور جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک طویل اور دردناک باب کا آغاز ہوا، یہ دن کشمیری عوام کی دیرینہ امنگوں اور حقِ خودارادیت کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کے حوالے سے ہماری بھرپور تائید کا اعادہ ہے۔ 

آزاد کشمیر کے عوام کا اظہار یکجہتی

یوم سیاہ کشمیرکے موقع پرآزاد جموں وکشمیر کےعوام کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر1947 کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج کے غیرقانونی قبضے کیخلاف کشمیری عوام کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

شہریوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکےعوام کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ اٹوٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

Load Next Story