لاہور ہائیکورٹ: اینٹی کرپشن کے نئے رولز میں ترمیم کی ہدایت
لاہور ہائیکورٹ میں چھ جعلی رجسٹریاں کرنے پر مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو اینٹی کرپشن کے نئے تجویز کردہ رولز میں ترمیم کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالتی حکم پر ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ جی چھٹہ صاحب آپ بتائیں نئے رولز پر کیا پیش رفت ہوئی ہے، ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ ہم نے نئے رولز لکھ کر چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیجوا دیے ہیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا تجویز چیف سیکرٹری کو آپ نے لکھ کر بھیجی ہیں ؟ ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ انکوائری کا پراسیس چار ماہ کے اندر بورڈ کی سفارشات پر دوبارہ اوپن کرسکتا ہے، ریجنل ڈائریکٹر بورڈ کی سفارشات پر انویسٹیگیشن کو متعلقہ ریجنل کے اندر تبدیل کرنے کی ہدایت کرسکتا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آپ نے اسپیشل پراسکیوٹرز لینے ہیں اس پر کیا پیش رفت ہے، ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ ہم نے لکھا ہے کہ فوجداری وکلاء کو لیا جائے گا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ مستقل وکلاء کو لیں گے یا عارضی بھرتیاں کرینگے، ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ ہم عارضی وکلاء کی بھرتیاں کرینگے، پچاس فیصد بھرتی وکلاء کی ہم کرینگے باقی چالیس فیصد دیگر محکموں سے لیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے تو آپکا کیس خراب کردیتے ہیں، آپ کو ہر تجویز پر غور کرنا ہوگا، چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے رجسٹری محرر محمد تاج سمیت دیگر کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔