قومی اسمبلی کی داخلہ کمیٹی میں حنا جاوید قتل کیس سے متعلق اہم انکشافات
قومی اسمبلی کی داخلہ کمیٹی میں حنا جاوید قتل کیس پر اہم انکشافات سامنے آگئے جب کہ پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کے بعد اہلخانہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے نئی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا گیا۔
بلیو پاسپورٹ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقتولہ کے اہلخانہ کے تحفظات موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ایک اور کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائیں گی۔
راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل کیس پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پولیس حکام، خصوصی تحقیقاتی ٹیم اور مقتولہ کے اہلخانہ نے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا۔
رکن کمیٹی شاہدہ رحمانی نے ابتدائی تفتیش پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کو بیس اگست کو بے دردی سے قتل کیا گیا، گھر سے آلہ قتل غائب تھا اور قتل کا سارا الزام ملازم پر ڈال دیا گیا۔ کہ مقتولہ کے اہلخانہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں انصاف کے تقاضے پورے ہونے کی یقین دہانی کرائی جائے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فرانزک شواہد کے مطابق مقتولہ کے جسم، کپڑوں اور بیڈ شیٹ سے ملازم ذیشان کے نشانات ملے، جبکہ ڈی این اے بھی میچ ہوا۔ آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپاء نے کہا کہ واقعے کے پہلے روز سے شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔
تاہم، کمیٹی رکن رفیع اللہ نے پولیس کی تفتیش پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے نام پر مقتولہ کو ملازم کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ خصوصی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اہلخانہ کے تحفظات سنے اور اڈیالہ جیل میں ملزمان سے سوالات کیے۔
ملزم ذیشان نے اپنے بیانات متعدد بار تبدیل کیے، جبکہ کیس میں مختلف فرانزک شواہد کا جائزہ لیا گیا۔ مقتولہ کی بہن نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہلخانہ کو اب تک تمام فرانزک رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں اور ان کے مطابق پولیس نے ابتدا میں واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقتولہ کے اہلخانہ کے تحفظات موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ایک اور کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائیں گی۔ پنجاب پولیس کا بہترین افسر اس کیس کی تحقیقات کرے گا تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے۔
اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کے بلیو پاسپورٹ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹرینز کے تاحیات بلیو پاسپورٹ ختم نہیں کیے جا رہے، تاہم بڑی تعداد میں سرکاری پاسپورٹس کے اجرا پر مختلف ممالک نے تحفظات ظاہر کیے ہیں، جس سے پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ اور ویزا فری سہولتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
رکن کمیٹی رفیع اللہ نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے قانونی بنیادوں پر وضاحت طلب کی۔ طلال چوہدری نے معاملے پر مزید تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ کمیٹی ارکان نے کم کیے گئے تیس ہزار پاسپورٹس اور وزارت خارجہ سمیت متعلقہ اداروں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔