پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر قائد حزب اختلاف واقع ہی سنجیدہ ہیں تو ان سے درخواست ہے کہ عمران خان خان نے جو اختیار ان کو دلوایا ہے اس کو استعمال کریں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں کل مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے دوران موجود نہیں تھا، قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کو طاقتور بنائیں ، انھوں نے کہا سارے فیصلے اس پارلیمان میں ہونے چاہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کا کردار اس میں اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو اپوزیشن کا کردار ہے ہاوس کو فعال کرنے میں ان کو کردار ادا کرنا ہوگا ، جو لوگ چاہتے ہیں پارلیمان فعال نہ ہو ان کا مقصد پورا ہو چکا ہے آپ کو مبارک ہو، کمیٹیوں میں نہ بیٹھنے کے فیصلے سے پارلیمان کمزور ہوا ہے ۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر قائد حزب اختلاف واقع ہی سنجیدہ ہیں تو ان سے درخواست ہے کہ خان صاحب نے جو اختیار ان کو دلوایا ہے اس کو استعمال کریں، انتخابی اصلاحات کمیٹی کی حد تک تو اپوزیشن لیڈر اپنے اختیارات استعمال کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں آنے والے انتخابات میں دھاندلی والے ایشو کو بہتر کیا جائے تو پی ٹی آئی کے اراکین اس میں شامل ہوں، سیکیورٹی، معیشت اور خطے کی صورتحال سے متعلق آنے والے دنوں میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزراء اس ہاؤس کو پورے طریقے سے بریف کریں اور بتائیں کہ کیا مشکلات ہیں ، بتائیں کہ ایران والے معاملے میں پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے، دفاعی معاہدوں اور دہشتگردی والے ایشو پر بریف کیا جائے، انتخابی اصلاحات، دہشتگری اور دفاعی معاہدوں سے متعلق بریفنگ میں آپ کے نمائندے نہیں ہونگے تو کیا فائدہ۔