ایکسپوٹ پراسیسنگ زون کے لیے بھیجی گئی کھیپ میں غلط بیانی کا انکشاف
ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کیلیے بھیجی گئی کھیپ میں بڑے پیمانے پر غلط بیانی کا انکشاف ہوا،یہ انکشاف ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ آپریشنز کراچی اور کلکٹریٹ کسٹمز اپریزمنٹ کی مشترکہ معائنے کے دوران سامنے آیا۔
ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ عرفان جاوید کے مطابق تحقیقات کے دوران68کروڑ80لاکھ روپے مالیت کا سامان پکڑا گیا ہے۔
مذکورہ کنسائنمنٹ پشاور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون رسالپور بھیجی جارہی تھی تاہم متعلقہ حکام نے موصولہ خفیہ اطلاع کی پر کنسائنمنٹ کا معائنہ کیا تو اس بات انکشاف ہوا کہ محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ دستاویزات میں جن اشیا کو ظاہر کیا گیا ہے وہ اشیا کنٹینر میں موجود نہیں۔
محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ گڈز ڈیکلریشن میں’’مشین پریس پارٹس‘‘ ظاہر کیا گیا تھا لیکن معائنے کے دوران کنٹینر سے لوڈ سیلز (Load Cells) برآمد ہوئے۔
حکام کے مطابق مذکورہ درآمد کنندہ کو ای پی ذیڈ اے نے مصنوعی پھولوں پودوں، سوٹ کیسز اور بیگز کی تیاری کا لائسنس جاری کیا تھا لیکن برآمد ہونے والی اشیا نہ تو ظاہر کردہ تفصیلات سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی درآمد کنندہ کی منظور شدہ پیداواری سرگرمیوں سے ہم آہنگ ہے۔
ویلیوایشن رولنگ کے مطابق برآمد ہونے مس ڈیکلئیرڈ اشیا شدہ کا تخمینہ 68کروڑ 80لاکھ روپے لگایا گیا ہے جس پر واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مالیت 16کروڑ 50لاکھ روپے ہے، مس ڈیکلریشن کے مرتکب کمپنی کے خلاف کسٹمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں کنٹراوینشن کیس اور مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔