اکبر ایس بابر کا پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کی تشکیل اور پارلیمنٹ میں موجود تمام پاپولر جماعتوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔
میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی انکوائری کمیشن قائم کیا جائے جو تحقیقات کرے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے 2 اگست 2022 کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں اور ملزمان کے خلاف اب تک کیا قانونی کروائی کی گئی ہے؟۔
عدالتی کمیشن پی ٹی آئی کی (2013-2009) تک فارن فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد اگلے پانچ سال (2019-2014) کے دوران ہونے والی مبینہ فارن فنڈنگ کی تحقیقات بھی کرائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دسمبر 2017 کے فیصلہ کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ازخود یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی شکایت کے باضابطہ دائر ہوئے بغیر بھی وہ سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کی مکمل تحقیقات کر سکتا ہے۔
قومی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ عدالتی کمیشن پارلیمان میں موجود تمام پاپولر سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کی مکمل تحقیقات کرائے۔
27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے بعد، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی عرب جماعتوں (جیسے کہ 'رام' اور 'جوائنٹ لسٹ') کو قطر اور ترکی سے غیر قانونی فارن فنڈنگ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں عرب جماعتوں نے 120 رکنی 'کنیسٹ' (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں تاریخی 19 نشستیں حاصل کیں۔
ابھی الزام لگا ہی تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس نوام سولبرگ، جو مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے ملکی انٹیلی جنس ایجنسی 'شین بیٹ' (Shin Bet) سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی فارن فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کرے۔
دوسری طرف پاکستان ہے جہاں ایک پاپولر جماعت کی بھارت اور اسرائیل سمیت کئی ممالک سے فارن فنڈنگ ثابت ہوئے 3 سال سے زیادہ ہوگئے مگر ملزمان کھلے عام سیاست میں مصروف ہیں۔