مشرق وسطیٰ… امن اور خدشات
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں، فریقین کی جانب سے ملے جلے اشارے مل رہے ہیں جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ بھی کسی واضح نتیجے پر پہنچنے کی خبریں نہیں دے رہا ہے۔
کبھی ایسا سننے میں آتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ٹرمپ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران پر فیصلہ کن حملہ کرے البتہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے کیونکہ انھیں امریکا کے اندر خاصی مزاحمت کا سامنا ہے۔
ادھر ایرانی قیادت بھی اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور وہ امریکا کے ساتھ بات چیت پر اور کسی معاہدے پر آمادہ تو ہے لیکن یہ معاہدہ آبرومندانہ ہونا چاہیے۔ ادھر میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں عرب ملک قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے سینئر مشیر کی قیادت میں قطر کے ثالث جمعے کو دوبارہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔
ترکیہ میں امریکا کے سفیر اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک کے حوالے سے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔ انھوں نے امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں قطر، پاکستان اور امریکا کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بہت سے مواقع ایسے آئے ہیں جب یہ امید بندھی کہ تنازع حتمی طور پر حل ہو جائے گا لیکن پھر کوئی نہ کوئی رکاوٹ درمیان میں آ جاتی ہے۔ اب یمن کے حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ اور بحیرۂ احمر میں کارروائیاں بھی اس تنازع کا حصہ بن گئی ہیں۔
یمن کے حوثیوں کو ایران کی پراکسی سمجھا جاتا ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ یمنی حوثی ایران کے کہنے پر کارروائیاں کر رہے ہیں اور ایران انھیں مدد بھی کر رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ حوثیوں کی مدد نہیں کر رہی۔
اب ثالثی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں، اس کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے تہران کی7 شرائط تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔
دباؤ ڈالنے اور لالچ دینے کی پالیسی کا ایران پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کے بیان سے یہ لگتا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈال کر معاہدہ کرانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
اسی لیے انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور ایران نے معاہدے کے لیے جو سات شرائط پیش کر رکھی ہیں، انھیں کسی صورت میں تسلیم کرنا ہو گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف مصطفی ایزدی نے بھی ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
آبنائے ہرمز ایران کے پاس ایک ایسا کارڈ ہے جسے وہ ہر وقت کھیل سکتا ہے جس سے عالمی تجارت متاثر ہوتی ہے۔ ادھر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش بھی کر دی ہے۔
امریکا کے معتبر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ امریکی انتظامیہ کے نزدیک محسن رضائی کسی معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اہم شخصیت ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران کو نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہو گیا ہے، تاہم تہران نے ابھی تک باضابطہ جواب نہیں دیا۔
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد مذاکرات میں بھی شریک رہے ہیں۔ انھوں نے امریکی وفد کی قیادت کی تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی پاور سٹرکچر میں وہ اہم شخصیت ہیں جو براہ راست پاسداران کے ساتھ بات چیت کرنے کے حق میں ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ ایران میں پاسداران انقلاب واحد طاقت ہے جو نتیجہ خیز مذاکرات کر سکتی ہے۔ اگر ایرانی پاور سٹرکچر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات خاصی حد تک درست بھی نظر آتی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب براہ راست رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ہدایات لیتے ہیں۔
اگر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت امریکا کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوتی ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے بغیر ایران کے پاور سٹرکچر میں کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے جو معاہدہ کر سکے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے بیانات آ رہے ہیں کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔
ان حالات کو دیکھا جائے تو جے ڈی وینس کا فیصلہ بہتر نظر آتا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ایسا ہو پاتا ہے یا نہیں کیونکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کسی ایسے معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جس سے یہ تاثر ملے کہ ایران نے سرنڈر کر دیا ہے جبکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران سے سرنڈر معاہدے پر دستخط کرائے جائیں۔ ان حالات کو دیکھا جائے تو مذاکرات کی کامیابی خاصی مشکل نظر آتی ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریڈیو سے گفتگو کے دوران میں ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ تاہم ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ کمانڈر امریکی سینٹکام ایڈمرل بریڈ کوپر نے وائٹ ہائوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ممکنہ آپشنز پر بریفنگ دی۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ وارننگ نظرانداز کرنے والے دو آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں حادثے کا شکار ہو کر رک گئے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی اونے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کے ڈھانچے کے ساتھ دھماکہ خیز مواد لگا کر اسے نشانہ بنایا گیا ۔آبنائے ہرمز کے قریب حملے کا شکار ہونے والے جہاز کے 25 اہلکاروں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز میں صورت حال خاصی پیچیدہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو بدستور خطرات لاحق ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بحران کم ہونے کی بجائے پھیلتا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر بھی تجارتی جہازوں کے لیے خطرات سے پر ہے۔ سعودی عرب کو بھی خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کو اپنے ملک میں تجارتی بنیادوں پر ٹیکس فری آئل اینڈ اسٹوریج کی پیش کش کی ہے جس سے سعودی عرب کو امریکا ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے منسلک بحری ترسیل کے خطرات میں تنوع لانے اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں مدد ملے گی۔
یہ پیش کش پاکستان میں نئے تعینات ہونے والے سعودی سفیر کی وفاقی وزیر پٹرولیم سے ملاقات کے دوران کی گئی۔ پاکستان کی جانب سے یہ ایک اچھی آفر ہے اور یقینا سعودی عرب اسے قبول کرے گا۔
اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ایران اور امریکا کے درمیان اپنی ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط حد تک پرامید ہے۔
تہران دورے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مزید کہنا تھاکہ اب بھی طاقتور تخریب کار اور مخالفین موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ تنازع ان کے مفاد میں ہے، انھوں نے کہا کہ جس کے پاس بھی اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی امن کا مشترکہ وژن ہے، اس کا خیرمقدم کیوں نہ کیا جائے؟ ہر ایک کا انتہائی خیرمقدم ہے،اس کا فیصلہ تینوں مرکزی فریقین کی سیاسی قیادت نے کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔ پاکستان سعودی عرب اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ہم یمنی تنازع کا حصہ نہیں،ہمارے انسداد دہشت گردی کے آپریشنز انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز پر مبنی ہیں اور ان کارروائیوںکی رفتار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والے تنازع نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان خلوص دل سے خلیج میں قیام امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع خوش اسلوبی سے پائیدار بنیادوں پر طے پا جائے تاکہ خطے میں تعمیر وترقی کا عمل شروع ہو سکے۔
بہرحال دنیا کی نظریں مشرق وسطیٰ پر لگی ہوئی ہیں کہ یہاں صورت حال کیا ہوتی ہے۔ فریقین کے بیانات کو سامنے رکھیں تو اس میں امید کا پہلو بھی نظر آتا ہے جبکہ ایسا تاثر بھی ملتا ہے کہ کہیں جنگ کے بادل دوبارہ نہ چھا جائیں۔
امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنے والے ممالک مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امید کا تقاضا یہی ہے کہ یہ توقع رکھی جائے کہ ایران امریکا تنازع جلد ایک اچھے اختتام پر پہنچے گا جبکہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بھی کوئی نہ کوئی اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے۔