امریکا کا 150 سے زائد افغان شہریوں کو براستہ پاکستان کابل ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ
فائل/فوٹو: رائٹرز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 150 سے زائد افغان شہریوں کو امریکا سے پاکستان کے راستے واپس کابل بھیجنے کا منصوبہ بنالیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راسے سے واپس بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اقدام کو مذکورہ شہریوں کی زندگی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد 150 سے زائد افغان شہریوں کی واپسی متوقع ہے اور پہلی پرواز پیر کو امریکا سے روانہ ہوسکتی ہے۔
افغان شہریوں کے لیے کام کرنے والی رضاکار تنظیم کے مطابق ممکنہ طور پر ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد میں وہ افغان شہریوں کے رشتہ دار شامل ہیں جنہوں نے کابل میں طالبان کی واپسی سے قبل امریکی فوج سے تعاون کیا تھا۔
امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ افغان شہریوں کی براہ راستہ کابل واپسی کا انتظام نہیں کرسکتی، اس لیے پاکستان ان فراد کی افغانستان واپسی کی نگرانی کرے گا۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس افغانستان سمیت کئی ممالک پر سفری پابندی عائد کی تھی، جو غیرملکی شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور افغان شہریوں کو ڈی پورٹیشن سے حاصل تحفظ ختم کرنے کا حصہ تھا جبکہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد امریکا پہنچنے والے کئی افغان شہریوں کو خصوصی ویزے جاری کیے گئے تھے۔