فیکٹ چیک: ایران میں پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی پر حملے کی خبریں جھوٹی نکلیں

پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی پر تہران میں حملے کا دعویٰ غلط ہے

سوشل میڈیا پر ایران میں تعینات پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی پر مبینہ حملے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

یہ دعوے غلط ہے۔

دعویٰ کیا تھا؟

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی کو تہران میں ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جہاں متعدد افراد نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کر دیا۔

اس دعوے کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں کچھ افراد کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

یکم نومبر کو تہران میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی۔

سفارت خانے نے کہا کہ اس نے پاکستانی سفیر سے متعلق سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبروں کا نوٹس لیا ہے، تاہم یہ اطلاعات مکمل طور پر بے بنیاد اور حقائق کے خلاف ہیں۔

فیکٹ چیک کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ وائرل ویڈیو دراصل 29 اکتوبر 2026 کو آرمینیا کی پارلیمنٹ میں ارکان کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی ہے جسے پاکستانی سفیر پر حملے سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔

نتیجہ

پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی پر تہران میں حملے کا دعویٰ غلط ہے۔ پاکستانی سفارت خانے نے اس کی تردید کی ہے جبکہ وائرل ویڈیو بھی ایران کی نہیں بلکہ آرمینیا کی پارلیمنٹ کی ہے۔

Load Next Story