ایم کیو ایم کے دھرنے جی آئی ڈی سی کا نفاذ کراچی اسٹاک مارکیٹ نے 30000 کی حد بھی گنوادی
کے ایس ای 100 انڈیکس 155.53 پوائنٹس کی کمی سے29940 ہوگیا، 51 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں
انویسٹرز کے27 ارب 80 کروڑ ڈوب گئے، 413 کمپنیوں میں سے 175 کے بھاؤ میں اضافہ، 210 کے داموں میں کمی۔ فوٹو: آن لائن/فائل
متحدہ قومی مومنٹ کی کراچی میںاحتجاجی دھرنوں، گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس نافذ ہونے سے فرٹیلائزر سمیت دیگر صنعتی شعبوں کے متاثر ہونے کے خطرات جیسے عوامل کراچی اسٹاک ایکس چینج کی نفسیات پر چھائے رہے اور جمعرات کو بھی اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی 30000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔
مندی کے سبب51 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے27 ارب80 کروڑ70 لاکھ51 ہزار51 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر58 لاکھ93 ہزار412 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر71.33 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس 30167.13 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گئی تھی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے15 لاکھ97 ہزار193 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے21 لاکھ9 ہزار514 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے21 لاکھ86 ہزار707 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کے اثرات کو زائل کرتے ہوئے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کردیا۔
نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس155.53 پوائنٹس کی کمی سے 29940.27 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 149.54 پوائنٹس کی کمی سے20416.50 اور کے ایم آئی30 انڈیکس387.94 پوائنٹس کی کمی سے48675.37 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 13.76فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ43 لاکھ92 ہزار590 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار413 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں175 کے بھاؤ میں اضافہ 210 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ50 روپے بڑھ کر1550 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ41.97 روپے بڑھ کر 1026.96 روپے ہوگئے جبکہ رفحان میظ کے بھاؤ 253.27 روپے کم ہوکر10646.73 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھاؤ50 روپے کم ہوکر7750 روپے ہوگئے۔
مندی کے سبب51 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے27 ارب80 کروڑ70 لاکھ51 ہزار51 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر58 لاکھ93 ہزار412 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر71.33 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس 30167.13 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گئی تھی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے15 لاکھ97 ہزار193 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے21 لاکھ9 ہزار514 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے21 لاکھ86 ہزار707 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کے اثرات کو زائل کرتے ہوئے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کردیا۔
نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس155.53 پوائنٹس کی کمی سے 29940.27 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 149.54 پوائنٹس کی کمی سے20416.50 اور کے ایم آئی30 انڈیکس387.94 پوائنٹس کی کمی سے48675.37 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 13.76فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ43 لاکھ92 ہزار590 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار413 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں175 کے بھاؤ میں اضافہ 210 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ50 روپے بڑھ کر1550 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ41.97 روپے بڑھ کر 1026.96 روپے ہوگئے جبکہ رفحان میظ کے بھاؤ 253.27 روپے کم ہوکر10646.73 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھاؤ50 روپے کم ہوکر7750 روپے ہوگئے۔