بات کچھ اِدھر اُدھر کی مگر بات ہے رسوائی کی
اِس غلیظ کام کرنے والوں سے نفرت کرنے کے بجائے ہمیں اِس ڈاکومینٹری سے نفرت کرنی چاہیے جو حقیقت بیان کررہی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں جنسی زیادتی کا زہر بڑھتا جارہا ہے مگر سمجھ نہیں آرہا ہے نفرت کس سے کروں؟ ایسا کام کام کرنے والوں سے یا ایسا کام کروانے والوں سے؟ یا پھر حکومت سے جو مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
ایک عجیب بے بسی، غم اور دکھ نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا، جب نعیم نے کہا وہ بہت چھوٹا تھا غالباً ساٹھے آٹھ سال کا تھا جب اُس نے پہلی بار خود کو بیچا۔
میں والدین کی وفات کے بعد اپنے بھائی کی مار سے تنگ آکر گھر سے بھاگ گیا تھا۔ میرے پاس سونے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں گہرا دکھ اور مایوسی تھی۔اس واقعہ کے بعد میں ایک پوری رات روتا رہا کہ میرے خدا میں نے یہ کیا کردیا۔ لیکن پھر ایسا اکثر ہونے لگا ،جب بھی میرے پاس پیسے نہیں ہوتے میں اڈے کے پاس ہوٹل چلا جاتا جہاں ڈرائیور اور کنڈیکٹر کرائے کی چارپائیوں پر سوتے ہیں ۔اور وہاں اکثر چھوٹے بچوں کے ساتھ زبردستی کی جاتی تھی ۔ ایک دن میں وہاں سویا ہوا تھا کہ چار بندے مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور میرے ساتھ زیادتی کی اور مجھے نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔
دکھ ،مایوسی اور بے بسی نعیم کو نشے کا عادی بناچکی ہے اور اسی نشے کی حالت میں وہ معاشرے سے انتقام لینے کے بارے میں سوچتا ہے لیکن صرف خود کو چاقو سے زخمی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتا۔
یہ صرف نعیم کی کہانی نہیں ہے۔ جب کئی کم سن کام کرنے والے بچوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے یہی جواب دیا کہ وہ جنسی طور پر ہراساں کیے جاتے ہیں۔ اڈے والے ہوٹل کا مالک کہتا ہے مجبوری ہے ڈرائیور لوگوں کی ڈیمانڈ پوری کرنی پڑتی ہے اسی لیے ہم چھوٹے بچے جو اکثر لاوارث ہوتے ہیں انھیں رہائش اور کھانے کا لالچ دے کر لاتے ہیں۔
ضیاء ا عوان وکیل ہیں اور کئی سالوں سے بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ان کے اعدادو شمار کے مطابق ہمارے بچے چاہے وہ گھروں میں ہوں یا گلیوں میں وہ جنسی طور پر ہراساں کیے جاتے ہیں ،کچھ مجبوری سے اپنا جسم بیچتے ہیں اور باقی کے ساتھ زبردستی ہوتی ہے اور یہ زبردستی کرنے والے کبھی عزیز رشتے دار ہوتے ہیں کبھی تنخواہ دینے والا مالک۔ ایسے واقعات کی رپورٹنگ بھی کہیں نہیں ہوتی اور ان کا ذکر بھی کوئی نہیں کرتا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم بحثیت قوم ایک اجتماعی انکار کی حقیقت میں مبتلاء ہیں۔
ہمارے معاشرے کی اس خفیہ حقیقت کو ڈاکومینٹری کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے دکھا دیا گیا ہے۔ ڈاکومینٹری کا نام Pakistan's Hidden Shame ہے۔ اس ڈاکومینٹری کو دیکھ کر میں جیسے سکتے میں آگیا ایسا لگا جیسے کسی نے میرے سامنے غلیظ گٹر کا ڈھکن کھول دیا ہو، ایسی غلاظت جس کے وجود سے میں اب تک بے خبر تھا، لیکن ساتھ ہی ایک بے بسی نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا کہ میں نہ تو اس ناسور کے خاتمے کے لیے کچھ کرسکتا ہوں اور نہ ہی اس کے بارے میں کھل کے بات بھی نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ ایسی باتوں کے انکشاف کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ میرے دل میں ایک نفرت کی بھی لہر اٹھ رہی ہے لیکن سمجھ نہیں آتی کہ نفرت کس سے کروں ان لوگوں سے جو یہ کام کرتے ہیں یا ان سے جو خود اپنا جسم بیچتے ہیں یا ان حالات سے جو لوگوں کو جسم بیچنے پر مجبور کرتے ہیں یا حکومت سے جو مؤثر قانون سازی نہیں کرتی یا انتظامیہ سے جو موجودہ قوانین کا اطلاق نہیں کرتی یا انکارِ حقیقت میں مبتلا بے حس معاشرے سے۔
لیکن پھر خیال آیا کہ اصل قصور وار تو یہ ڈاکومینٹری بنانے والے ہیں جنھوں نے سرعام ہمارے معاشرے کو برہنہ کرنے کی کوشش کی ہے اور مجھے اور ساری دنیا کو ہمارے معاشرے کی خامیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔اس خیال نے مجھے کافی تقویت دی کہ اصل مجرم تو یہ انگریز ہیں جو انسانی حقوق کے نام پر ہمیں بدنام کررہے ہیں۔ میرے معاشرے میں اگر کوئی برائی ہے بھی تو اس کو سرعام دکھانا اس سے بڑی بُرائی ہے۔ تو میرا آپ کو مشورہ ہے کہ اس ڈاکومینٹری کو بالکل مت دیکھیں اور اگر غلطی سے دیکھ بھی لیں تو دکھی ، مایوس اور اتنے سارے لوگوں سے نفرت کے بجائے صرف ڈاکومینٹری بنانے والوں سے نفرت کریں۔اور اس بات کا کسی سے ذکر بھی نہ کریں کیونکہ جیسی بھی ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
ایک عجیب بے بسی، غم اور دکھ نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا، جب نعیم نے کہا وہ بہت چھوٹا تھا غالباً ساٹھے آٹھ سال کا تھا جب اُس نے پہلی بار خود کو بیچا۔
میں والدین کی وفات کے بعد اپنے بھائی کی مار سے تنگ آکر گھر سے بھاگ گیا تھا۔ میرے پاس سونے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں گہرا دکھ اور مایوسی تھی۔اس واقعہ کے بعد میں ایک پوری رات روتا رہا کہ میرے خدا میں نے یہ کیا کردیا۔ لیکن پھر ایسا اکثر ہونے لگا ،جب بھی میرے پاس پیسے نہیں ہوتے میں اڈے کے پاس ہوٹل چلا جاتا جہاں ڈرائیور اور کنڈیکٹر کرائے کی چارپائیوں پر سوتے ہیں ۔اور وہاں اکثر چھوٹے بچوں کے ساتھ زبردستی کی جاتی تھی ۔ ایک دن میں وہاں سویا ہوا تھا کہ چار بندے مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور میرے ساتھ زیادتی کی اور مجھے نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔
دکھ ،مایوسی اور بے بسی نعیم کو نشے کا عادی بناچکی ہے اور اسی نشے کی حالت میں وہ معاشرے سے انتقام لینے کے بارے میں سوچتا ہے لیکن صرف خود کو چاقو سے زخمی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتا۔
یہ صرف نعیم کی کہانی نہیں ہے۔ جب کئی کم سن کام کرنے والے بچوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے یہی جواب دیا کہ وہ جنسی طور پر ہراساں کیے جاتے ہیں۔ اڈے والے ہوٹل کا مالک کہتا ہے مجبوری ہے ڈرائیور لوگوں کی ڈیمانڈ پوری کرنی پڑتی ہے اسی لیے ہم چھوٹے بچے جو اکثر لاوارث ہوتے ہیں انھیں رہائش اور کھانے کا لالچ دے کر لاتے ہیں۔
ضیاء ا عوان وکیل ہیں اور کئی سالوں سے بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ان کے اعدادو شمار کے مطابق ہمارے بچے چاہے وہ گھروں میں ہوں یا گلیوں میں وہ جنسی طور پر ہراساں کیے جاتے ہیں ،کچھ مجبوری سے اپنا جسم بیچتے ہیں اور باقی کے ساتھ زبردستی ہوتی ہے اور یہ زبردستی کرنے والے کبھی عزیز رشتے دار ہوتے ہیں کبھی تنخواہ دینے والا مالک۔ ایسے واقعات کی رپورٹنگ بھی کہیں نہیں ہوتی اور ان کا ذکر بھی کوئی نہیں کرتا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم بحثیت قوم ایک اجتماعی انکار کی حقیقت میں مبتلاء ہیں۔
ہمارے معاشرے کی اس خفیہ حقیقت کو ڈاکومینٹری کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے دکھا دیا گیا ہے۔ ڈاکومینٹری کا نام Pakistan's Hidden Shame ہے۔ اس ڈاکومینٹری کو دیکھ کر میں جیسے سکتے میں آگیا ایسا لگا جیسے کسی نے میرے سامنے غلیظ گٹر کا ڈھکن کھول دیا ہو، ایسی غلاظت جس کے وجود سے میں اب تک بے خبر تھا، لیکن ساتھ ہی ایک بے بسی نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا کہ میں نہ تو اس ناسور کے خاتمے کے لیے کچھ کرسکتا ہوں اور نہ ہی اس کے بارے میں کھل کے بات بھی نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ ایسی باتوں کے انکشاف کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ میرے دل میں ایک نفرت کی بھی لہر اٹھ رہی ہے لیکن سمجھ نہیں آتی کہ نفرت کس سے کروں ان لوگوں سے جو یہ کام کرتے ہیں یا ان سے جو خود اپنا جسم بیچتے ہیں یا ان حالات سے جو لوگوں کو جسم بیچنے پر مجبور کرتے ہیں یا حکومت سے جو مؤثر قانون سازی نہیں کرتی یا انتظامیہ سے جو موجودہ قوانین کا اطلاق نہیں کرتی یا انکارِ حقیقت میں مبتلا بے حس معاشرے سے۔
لیکن پھر خیال آیا کہ اصل قصور وار تو یہ ڈاکومینٹری بنانے والے ہیں جنھوں نے سرعام ہمارے معاشرے کو برہنہ کرنے کی کوشش کی ہے اور مجھے اور ساری دنیا کو ہمارے معاشرے کی خامیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔اس خیال نے مجھے کافی تقویت دی کہ اصل مجرم تو یہ انگریز ہیں جو انسانی حقوق کے نام پر ہمیں بدنام کررہے ہیں۔ میرے معاشرے میں اگر کوئی برائی ہے بھی تو اس کو سرعام دکھانا اس سے بڑی بُرائی ہے۔ تو میرا آپ کو مشورہ ہے کہ اس ڈاکومینٹری کو بالکل مت دیکھیں اور اگر غلطی سے دیکھ بھی لیں تو دکھی ، مایوس اور اتنے سارے لوگوں سے نفرت کے بجائے صرف ڈاکومینٹری بنانے والوں سے نفرت کریں۔اور اس بات کا کسی سے ذکر بھی نہ کریں کیونکہ جیسی بھی ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔