قوم کا لیڈر کیسا ہو
اب یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک شخص ہمارے بارے میں اتنا ’’اچھا‘‘ سمجھ رہا ہو اور ہم اس کی تردید کریں
barq@email.com
کچھ عرصہ پہلے بھوپال میں ایک بھارتی مسلمان نے ہم سے ایک سوال پوچھا تھا کہ پاکستان کے ''نیتا'' کیسے ہیں، اس کا جو جواب ہم نے دیا تھا وہ بعد میں بتائیں گے پہلے ایک لطیفہ + حقیقہ سن لیجیے، میاں تقویم الحق کاکا خیل مرحوم بڑے ہمہ جہت قسم کے شاعر، ادیب اور دانشور تھے، ان کی علمیت دانش اور خطابت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک مرتبہ انھوں نے اکادمی ادبیات کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں جب مقالہ پڑھا تو ان کے بعد سجاد حیدر کی باری تھی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر اپنے مقالے سے دست برداری کا اعلان کیا کہ میاں صاحب کے اس مقالے کے بعد مقالہ پڑھنا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔
لیکن اتنی علمیت کے باوجود جب وہ طنز و مزاح پر آتے تھے تو باتوں باتوں میں جوہر پارے اور ریزہ ہائے الماس کے سمندر بہا دیتے تھے ان سے ایک مرتبہ ہم نے ایک اور مشہور و معروف شاعر و ادیب کے بارے میں پوچھا جو بہت بڑا نام رکھتے تھے خاص طور پر ''سرکاری اور تقریباتی'' سطح پر تو چار دانگ عالم میں مشہور تھے ہم نے پوچھا وہ کیسے شاعر ہیں؟... میاں صاحب بڑی سنجیدگی سے بولے... کھانا بڑا اچھا کھلاتے ہیں ہم نے پھر اپنا سوال دہرایا... جناب یہ بتایئے کہ ادیب کس پائے کے ہیں... بولے... زبردست دعوتیں دیتے ہیں، واہ جی خوش ہو جاتا ہے ان کی دعوتوں میں... اپنے سوال کا جواب نہ پا کر تیسری بار ذرا سختی سے پوچھا... میاں صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں ہم ان کے ادبی مقام اور شاعری کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور آپ ان کے کھانوں اور دعوتوں کا ذکر کر رہے ہیں، میاں صاحب بڑی معصوم مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے بولے... کمال تم کر رہے ہو بتا تو رہا ہوں کہ ان کی صفات کیا ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ صاحب اپنی ان دعوتوں کے بل پر کہاں سے کہاں نہیں پہنچتے لیکن بعد مرنے کے بعد ان کے ''گھر'' سے کچھ بھی نہیں نکلا
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
صرف تقریریں تھیں اور تقریریں کب کی ہوا میں منتشر ہو کر نہ جانے کس جہاں میں کھو چکی تھیں، اب آتے ہیں اس سوال پر جو بمقام بھوپال ہم سے کیا گیا تھا دراصل سوال کرنے والا ''تھا'' نہیں بلکہ تھی... بلکہ زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ تھیں... یہ دو بہنیں تھیں جو شکل و صورت کے لحاظ سے بس واجبی سی تھیں لیکن سوچ اور ذہانت میں بے مثل تھیں ایک اردو شاعر کی صاحبزادیاں تھیں جو بھوپال کے نوابی خاندان سے بھی تعلق رکھتا تھا، لڑکیوں کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ بڑی والی نفسیات میں پی ایچ ڈی کر چکی تھی اور چھوٹی والی جو ابھی فلسفہ پڑھ رہی تھی اس نے سورۃ فاتحہ کا انگریزی نظم میں جو ترجمہ کیا تھا وہ ایک ماسٹر پیس تھا اور یہ سوال دونوں نے ہم سے کیا تھا کہ پاکستان کی لیڈر شپ کیسی ہے اور سوال کے پیچھے وہی آرزو تھی جو سارے برصغیر کے مسلمانوں کی تھی ایک ایسی اسلامی مملکت جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہو، لیکن ان بے چاریوں کو پتہ نہیں تھا کہ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
ان کو ہم نے پاکستان اور اس کی لیڈر شپ کے بارے میں جو کچھ بتایا اسے تھوڑی دیر کے لیے کچھ اور موخر کرتے ہیں اور وہ قصہ سناتے ہیں جو دہلی کے موتی محل ہوٹل میں ہم سے ''بھجن اوبرائے'' نے پوچھا، بھجن اوبرائے پشاور میں پیدا ہوا تھا اور جب آٹھ دس سال کا تھا تو پشاور صدر کے موتی محل نامی ہوٹل میں بیرا تھا اور اب ہجرت کے بعد اسی ہوٹل کا منیجر تھا جو پشاور صدر ہی کے مالکان نے اسی نام سے دریا گنج میں کھولا ہوا تھا، بھجن اوبرائے کی قسمت کا ستارہ بھارت میں ہجرت کے بعد بھی نہیں چمکا تھا، بیرے سے ترقی کر کے منیجر بن گیا لیکن رہتا اب بھی ایک کمرے کے اس کوارٹر میں تھا جس کا کل رقبہ ڈھائی مرلے تھا، لال قلعے کے مغرب میں یہ کوارٹرز سرکاری تھے وہ کب کے نکالے جا چکے ہوتے لیکن بھارت میں حکومت کسی کو زبردستی نہیں نکال سکتی، اس لیے ان کوارٹروں میں پاکستان سے گئے ہوئے مہاجر آٹھ روپے ماہوار پر پڑے ہوئے تھے، بھجن اوبرائے کا صرف ایک ڈس ایبل بچہ تھا اور چھ لڑکیاں تھیں مطلب یہ کہ زندگی ''مزے'' میں گزر رہی تھی جیسے غالبؔ کی گزرتی تھی
زندگی اپنی جب اس طور سے گزرے غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
چنانچہ بھجن ہمیشہ اپنی ہجرت پر پچھتایا کیے اور بھارتی لیڈروں سے حد درجہ شاکی رہے، اس نے ہم سے کرید کرید کر پاکستان اور پشاور کے حالات پوچھے یوں جیسے کوئی دوزخی کسی جنتی سے بہشت کے حالات پوچھے، وہ بات بات پر اپنے چور اور بھرشٹا چاری لیڈروں کو کوستا اور پچھتاتا کہ کیوں ہجرت کر کے آئے اسی دھن میں وہ ہم سے پاکستان کے حالات بڑی للچاہٹ سے پوچھتا ان کے خیال میں پاکستان
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
اب یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک شخص ہمارے بارے میں اتنا ''اچھا'' سمجھ رہا ہو اور ہم اس کی تردید کریں ہم بھی بندہ بشر تھے چنانچہ اس کے خیالات سن کر دل ہی دل میں خوش ہوتے کہ چلو اگر ہم ''فیل'' ہوئے تو کوئی بات نہیں چچا زاد بھی تو فیل ہو گیا تھا، چنانچہ ہم جب بھی بھجن سے بات کرتے تھے تو وہ بولتا رہتا اپنے لیڈروں کو ادھیڑتا رہتا اور ہم ''ابن انشاء'' بنے رہتے یعنی ہم چپ رہتے ہم ہنس دیتے منظور تھا پردہ ''اپنا''... چلیے اب ایک مرتبہ پھر بھوپال چلتے ہیں جہاں ہم سے پاکستانی لیڈر شپ کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور جواب سے پہلے ہمیں میاں تقویم الحق کاکا خیل مرحوم یاد آ گئے تھے۔
جنھوں نے ایک مشہور و معروف سرکاری طور پر منظور شدہ ادیب کے بارے میں بتایا تھا اور ان کے ادبی اور دانشورانہ مقام کا تعین کرتے ہوئے فرمایا تھا، کہ بہت اچھی دعوتیں دیتے ہیں اور بڑے مزیدار کھانے کھلاتے ہیں اور غالباً کسی کے ادبی اور شاعرانہ دانشورانہ مقام پر اس سے زیادہ اچھا اور جامع تبصرہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور تقریباً ایسا ہی جواب ہم نے پاکستانی لیڈر شپ کے بارے میں دیا تھا، سوال کو ایک مرتبہ پھر دہرائے دیتے ہیں... پاکستان کے سیاسی لیڈر کیسے ہیں، جی بڑی اچھی تقریریں کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ وہ سوال کرنے والی اس سے مطمئن نہیں ہوئی تب ہی اس نے پھر پوچھا... میرا مطلب ہے پاکستانی لیڈر کیسے ہیں؟ بڑے اچھے بیانات دیتے ہیں... ہمارا جواب تھا بے چاری کی تسلی نہیں ہوئی تو ہمارے پھسڈی پن پر ماتم کرتے ہوئے بولی... میرا مطلب ہے کہ پاکستانی سیاست کیسی ہے؟ اب آپ ہی بتائیں کہ
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
لیکن اتنی علمیت کے باوجود جب وہ طنز و مزاح پر آتے تھے تو باتوں باتوں میں جوہر پارے اور ریزہ ہائے الماس کے سمندر بہا دیتے تھے ان سے ایک مرتبہ ہم نے ایک اور مشہور و معروف شاعر و ادیب کے بارے میں پوچھا جو بہت بڑا نام رکھتے تھے خاص طور پر ''سرکاری اور تقریباتی'' سطح پر تو چار دانگ عالم میں مشہور تھے ہم نے پوچھا وہ کیسے شاعر ہیں؟... میاں صاحب بڑی سنجیدگی سے بولے... کھانا بڑا اچھا کھلاتے ہیں ہم نے پھر اپنا سوال دہرایا... جناب یہ بتایئے کہ ادیب کس پائے کے ہیں... بولے... زبردست دعوتیں دیتے ہیں، واہ جی خوش ہو جاتا ہے ان کی دعوتوں میں... اپنے سوال کا جواب نہ پا کر تیسری بار ذرا سختی سے پوچھا... میاں صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں ہم ان کے ادبی مقام اور شاعری کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور آپ ان کے کھانوں اور دعوتوں کا ذکر کر رہے ہیں، میاں صاحب بڑی معصوم مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے بولے... کمال تم کر رہے ہو بتا تو رہا ہوں کہ ان کی صفات کیا ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ صاحب اپنی ان دعوتوں کے بل پر کہاں سے کہاں نہیں پہنچتے لیکن بعد مرنے کے بعد ان کے ''گھر'' سے کچھ بھی نہیں نکلا
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
صرف تقریریں تھیں اور تقریریں کب کی ہوا میں منتشر ہو کر نہ جانے کس جہاں میں کھو چکی تھیں، اب آتے ہیں اس سوال پر جو بمقام بھوپال ہم سے کیا گیا تھا دراصل سوال کرنے والا ''تھا'' نہیں بلکہ تھی... بلکہ زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ تھیں... یہ دو بہنیں تھیں جو شکل و صورت کے لحاظ سے بس واجبی سی تھیں لیکن سوچ اور ذہانت میں بے مثل تھیں ایک اردو شاعر کی صاحبزادیاں تھیں جو بھوپال کے نوابی خاندان سے بھی تعلق رکھتا تھا، لڑکیوں کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ بڑی والی نفسیات میں پی ایچ ڈی کر چکی تھی اور چھوٹی والی جو ابھی فلسفہ پڑھ رہی تھی اس نے سورۃ فاتحہ کا انگریزی نظم میں جو ترجمہ کیا تھا وہ ایک ماسٹر پیس تھا اور یہ سوال دونوں نے ہم سے کیا تھا کہ پاکستان کی لیڈر شپ کیسی ہے اور سوال کے پیچھے وہی آرزو تھی جو سارے برصغیر کے مسلمانوں کی تھی ایک ایسی اسلامی مملکت جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہو، لیکن ان بے چاریوں کو پتہ نہیں تھا کہ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
ان کو ہم نے پاکستان اور اس کی لیڈر شپ کے بارے میں جو کچھ بتایا اسے تھوڑی دیر کے لیے کچھ اور موخر کرتے ہیں اور وہ قصہ سناتے ہیں جو دہلی کے موتی محل ہوٹل میں ہم سے ''بھجن اوبرائے'' نے پوچھا، بھجن اوبرائے پشاور میں پیدا ہوا تھا اور جب آٹھ دس سال کا تھا تو پشاور صدر کے موتی محل نامی ہوٹل میں بیرا تھا اور اب ہجرت کے بعد اسی ہوٹل کا منیجر تھا جو پشاور صدر ہی کے مالکان نے اسی نام سے دریا گنج میں کھولا ہوا تھا، بھجن اوبرائے کی قسمت کا ستارہ بھارت میں ہجرت کے بعد بھی نہیں چمکا تھا، بیرے سے ترقی کر کے منیجر بن گیا لیکن رہتا اب بھی ایک کمرے کے اس کوارٹر میں تھا جس کا کل رقبہ ڈھائی مرلے تھا، لال قلعے کے مغرب میں یہ کوارٹرز سرکاری تھے وہ کب کے نکالے جا چکے ہوتے لیکن بھارت میں حکومت کسی کو زبردستی نہیں نکال سکتی، اس لیے ان کوارٹروں میں پاکستان سے گئے ہوئے مہاجر آٹھ روپے ماہوار پر پڑے ہوئے تھے، بھجن اوبرائے کا صرف ایک ڈس ایبل بچہ تھا اور چھ لڑکیاں تھیں مطلب یہ کہ زندگی ''مزے'' میں گزر رہی تھی جیسے غالبؔ کی گزرتی تھی
زندگی اپنی جب اس طور سے گزرے غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
چنانچہ بھجن ہمیشہ اپنی ہجرت پر پچھتایا کیے اور بھارتی لیڈروں سے حد درجہ شاکی رہے، اس نے ہم سے کرید کرید کر پاکستان اور پشاور کے حالات پوچھے یوں جیسے کوئی دوزخی کسی جنتی سے بہشت کے حالات پوچھے، وہ بات بات پر اپنے چور اور بھرشٹا چاری لیڈروں کو کوستا اور پچھتاتا کہ کیوں ہجرت کر کے آئے اسی دھن میں وہ ہم سے پاکستان کے حالات بڑی للچاہٹ سے پوچھتا ان کے خیال میں پاکستان
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
اب یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک شخص ہمارے بارے میں اتنا ''اچھا'' سمجھ رہا ہو اور ہم اس کی تردید کریں ہم بھی بندہ بشر تھے چنانچہ اس کے خیالات سن کر دل ہی دل میں خوش ہوتے کہ چلو اگر ہم ''فیل'' ہوئے تو کوئی بات نہیں چچا زاد بھی تو فیل ہو گیا تھا، چنانچہ ہم جب بھی بھجن سے بات کرتے تھے تو وہ بولتا رہتا اپنے لیڈروں کو ادھیڑتا رہتا اور ہم ''ابن انشاء'' بنے رہتے یعنی ہم چپ رہتے ہم ہنس دیتے منظور تھا پردہ ''اپنا''... چلیے اب ایک مرتبہ پھر بھوپال چلتے ہیں جہاں ہم سے پاکستانی لیڈر شپ کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور جواب سے پہلے ہمیں میاں تقویم الحق کاکا خیل مرحوم یاد آ گئے تھے۔
جنھوں نے ایک مشہور و معروف سرکاری طور پر منظور شدہ ادیب کے بارے میں بتایا تھا اور ان کے ادبی اور دانشورانہ مقام کا تعین کرتے ہوئے فرمایا تھا، کہ بہت اچھی دعوتیں دیتے ہیں اور بڑے مزیدار کھانے کھلاتے ہیں اور غالباً کسی کے ادبی اور شاعرانہ دانشورانہ مقام پر اس سے زیادہ اچھا اور جامع تبصرہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور تقریباً ایسا ہی جواب ہم نے پاکستانی لیڈر شپ کے بارے میں دیا تھا، سوال کو ایک مرتبہ پھر دہرائے دیتے ہیں... پاکستان کے سیاسی لیڈر کیسے ہیں، جی بڑی اچھی تقریریں کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ وہ سوال کرنے والی اس سے مطمئن نہیں ہوئی تب ہی اس نے پھر پوچھا... میرا مطلب ہے پاکستانی لیڈر کیسے ہیں؟ بڑے اچھے بیانات دیتے ہیں... ہمارا جواب تھا بے چاری کی تسلی نہیں ہوئی تو ہمارے پھسڈی پن پر ماتم کرتے ہوئے بولی... میرا مطلب ہے کہ پاکستانی سیاست کیسی ہے؟ اب آپ ہی بتائیں کہ
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟