بھارت کی مستقل رکنیت اور امریکی حمایت

پاکستان،بنگلہ دیش،نیپال، سری لنکا یا چین سب نے زخم کھائے ہیں ...

پاکستان،بنگلہ دیش،نیپال، سری لنکا یا چین سب نے زخم کھائے ہیں. فوٹو: پی ٹی آئی /فائل

مہا بھارت کا تصور تو پہلے ہی ہندو انتہا پسندوں کے ذہنوں میں موجود ہے،اب اس تھیوری کو تقویت نومنتخب وزیراعظم نریندرمودی کی صورت میں ملنے کی امید ہوچلی ہے،دوسری جانب عالمی طاقتیں بھی چاہتی ہیں ، خطے میں بھارت کو بالادستی دی جائے،اسی سیناریو میں امریکی صدر بارک اوباما کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کو مستقل رکنیت دینے کی حمایت کرنے کا اعلان اس امرکی نشاندہی کرتا نظرآرہا ہے کہ خطے میں بھارت کو'تھانیدار 'کا کردار ملنے والا ہے، پاکستان پہلے ہی بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کے خلاف ہے، پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی بھارت کی ریشہ دوانیوں اور فوجی جارحیت کے باعث اس سے تنگ ہیں۔


پاکستان،بنگلہ دیش،نیپال، سری لنکا یا چین سب نے زخم کھائے ہیں، بظاہر تو امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے،دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے،جوہری ہتھیاروں پر انحصارکم کرنے اور بلا امتیاز تخفیف پراتفاق رائے کرتے ہوئے سٹرٹیجک شراکت داری میں اضافے اور اسے دنیا کے لیے مثال بنانے کا عزم ظاہرکیا گیا ہے،لیکن بھارت کو نئی''عالمی ذمے داریاں'' دینے سے پہلے امریکا کو بھارت کے کردار کو بھی سامنے رکھنا چاہیے ،کیا بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کا حق دیا ہے ؟جس کا وعدہ نہرو کرگئے تھے ، بھارت کے تمام حکمرانوں نے کشمیر کو 'اٹوٹ انگ' قرار دے کر کشمیر کے حق خود ارادیت کی نفی نہیں کی ۔

کیا بھارت چین اور پاکستان کے ساتھ جنگیں نہیں لڑچکا ، کیا سری لنکا میں فوجی مداخلت ، پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کے منفی کردار کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے ۔امریکا اور بھارت کے باہمی تعلقات پر تو کسی کو اعتراض نہیں ، باہمی تجارت ،لین دین ، سرمایہ کاری مستحسن ہیں لیکن بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے سے پہلے کم ازکم یہ شرط تو عائد کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کی آزادی اور سلامتی کا احترام کرکے اپنی 'شرافت' کا ثبوت فراہم کرے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن بننے کے بعد خطے کے ممالک زیادہ غیر محفوظ ہوجائیں گے۔
Load Next Story