کوہاٹ اور کوئٹہ میں دھماکے
خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو بم دھماکوں میں 11 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہو گئے
اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہو گا، فوٹو:آئی این پی/فائل
خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو بم دھماکوں میں 11 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہو گئے۔ کوہاٹ میں دھماکا مسافر سوزوکی وین کے قریب ہوا جب کہ کوئٹہ میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اس وقت اڑا لیا جب لوگ عید کی خریداری میں مصروف تھے۔جمعرات کو بھی پشاور اور گلگت میں مسافر کوچز میں دھماکوں کے نتیجے میں دس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
فوج کے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد بم دھماکوں اور تخریب کاری کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہو گئی تھی جس پر شہریوں نے اطمینان کا سانس لیا مگر یہ وقفہ عارضی ثابت ہوا اور گزشتہ چند روز سے بم دھماکوں کا شروع ہونے والا سلسلہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خطرہ بدستور موجود ہے اور ناجانے کب تک جاری رہے۔
گزشتہ چند روز سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اس وقت جب عیدالاضحی کے سلسلے میں بس اڈوں' اسٹیشنوں پر مسافروں اور بازاروں میں خریداروں کے رش میں اضافہ ہو چکا ہے ایسے موقع پر تخریب کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی ممکنہ تخریب کاری سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے۔ شہری حلقے کافی عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ بسوں،ویگنوں اور کوچز میں تخریبی مواد کا سراغ لگانے والے خصوصی آلات نصب کیے جائیں کیونکہ تخریب کاروں کے لیے مسافر بسوں کو نشانہ بنانا زیادہ آسان ہوتا ہے لیکن حکومت نے ابھی تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔
صوبہ خیبر پختونخوا اور کوئٹہ کے علاقے ایک عرصے سے تخریب کاری کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور انتظامیہ تمام تر دعوئوں کے باوجود اس عفریت پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ہر بم دھماکے کے بعد حکومت تخریب کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر کوئی منصوبہ بندی دکھائی نہیں دے رہی۔ روایتی چھاپوں اور وقتی سرچ آپریشن سے تخریب کاری پر قابو پانے کی کوشش کا طریقہ موثر ثابت نہیں ہو سکا۔ تخریب کار اپنے مذموم مقاصد کے لیے جدید سے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہو گا۔
فوج کے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد بم دھماکوں اور تخریب کاری کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہو گئی تھی جس پر شہریوں نے اطمینان کا سانس لیا مگر یہ وقفہ عارضی ثابت ہوا اور گزشتہ چند روز سے بم دھماکوں کا شروع ہونے والا سلسلہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خطرہ بدستور موجود ہے اور ناجانے کب تک جاری رہے۔
گزشتہ چند روز سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اس وقت جب عیدالاضحی کے سلسلے میں بس اڈوں' اسٹیشنوں پر مسافروں اور بازاروں میں خریداروں کے رش میں اضافہ ہو چکا ہے ایسے موقع پر تخریب کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی ممکنہ تخریب کاری سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے۔ شہری حلقے کافی عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ بسوں،ویگنوں اور کوچز میں تخریبی مواد کا سراغ لگانے والے خصوصی آلات نصب کیے جائیں کیونکہ تخریب کاروں کے لیے مسافر بسوں کو نشانہ بنانا زیادہ آسان ہوتا ہے لیکن حکومت نے ابھی تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔
صوبہ خیبر پختونخوا اور کوئٹہ کے علاقے ایک عرصے سے تخریب کاری کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور انتظامیہ تمام تر دعوئوں کے باوجود اس عفریت پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ہر بم دھماکے کے بعد حکومت تخریب کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر کوئی منصوبہ بندی دکھائی نہیں دے رہی۔ روایتی چھاپوں اور وقتی سرچ آپریشن سے تخریب کاری پر قابو پانے کی کوشش کا طریقہ موثر ثابت نہیں ہو سکا۔ تخریب کار اپنے مذموم مقاصد کے لیے جدید سے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہو گا۔