ایشین گیمز میں مایوس کن کارکردگی

جنوبی کوریا میں ہونےوالی17ویں ایشین گیمز گزشتہ روز اختتام پذیر ہو گئیں۔ پاکستان کے لیے کھیلوں کا یہ ایونٹ مایوس کن رہا


Editorial October 05, 2014
ان کھیلوں میں براعظم ایشیا کے 45 ممالک نے حصہ لیا۔ فوٹو : اے ایف پی/فائل

جنوبی کوریا میں ہونے والی17ویں ایشین گیمز گزشتہ روز اختتام پذیر ہو گئیں۔ پاکستان کے لیے کھیلوں کا یہ ایونٹ مایوس کن رہا۔ وہ صرف ایک سونے کا تمغہ حاصل کر سکا جب کہ اس کے کل میڈلز کی تعداد 5رہی۔ ان کھیلوں میں براعظم ایشیا کے 45 ممالک نے حصہ لیا۔ تمغوں کی دوڑ میں پاکستان 23 ویں پوزیشن پر رہا۔ چین نے 151 سونے کے تمغے حاصل کر کے پہلی پوزیشن پر قبضہ برقرار رکھا جب کہ اس کے کل تمغوں کی تعداد 343 رہی۔ میزبان جنوبی کوریا 79 میڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جب کہ اس نے مجموعی طور پر 234 میڈل حاصل کیے' جاپان تیسرے نمبر پر رہا۔

آج کے دور میں کھیل بھی کسی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سیاسی استحکام اور مضبوط معیشت کے حامل ممالک کھیلوں کے میدان میں اعلیٰ کاکردگی دکھاتے ہیں۔ ایشین گیمز میں میڈل پوزیشن سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ براعظم ایشیا میں عوامی جمہوریہ چین' جنوبی کوریا اور جاپان میں معیشت مضبوط ہے اور وہاں سیاسی استحکام بھی ہے جب کہ پاکستان کی پوزیشن دیکھ کر ملک کی حالت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے' ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ بھارت بھی اپنے سائز اور یونٹینشل کے مقابلے میں انتہائی کم میڈل لے سکا۔

میڈل ٹیبل پر اس کی پوزیشن 8 ویں ہے' اس نے 11 سونے کے تمغے جیتے اور مجموعی طور پر 57 میڈل لے سکا' یوں چین' جنوبی کوریا یا جاپان کے ساتھ اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں بلکہ وہ ایران' قازقستان' تھائی لینڈ اور شمالی کوریا سے بھی پیچھے رہا۔ ان کھیلوں میں پورے جنوبی ایشیا کے ممالک کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ جنوبی ایشیا کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب ہے لیکن اس خطے کے تمام آٹھ ممالک نے کل ملا کر سونے کے 13 تمغے حاصل کیے جب کہ مجموعی تمغوں کی تعداد 70 رہی۔

پاکستان ایشیائی کھیلوں میں اچھی کارکردگی دکھاتا رہا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کھیلوں میں زوال آ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں ٹیلنٹ یا وسائل کی کمی ہے' اصل مسئلہ اقربا پروری' علاقائی' نسلی و لسانی تعصب ہے جس کے باعث اہل کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے' اس طرز عمل اور سوچ نے ملک کو معاشی و سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہی نہیں کیا بلکہ کھیلوں کے زوال کا سبب بھی یہی طرز عمل اور سوچ ہے۔

مقبول خبریں