گل پلازہ سانحہ محض ایک خبر یا واقعہ نہیں رہا، یہ شہر کراچی کے اجتماعی ضمیر پر لگا ہوا ایک ایسا زخم ہے جو برسوں کی غفلت، کرپشن اور بے حسی کا نتیجہ بن کر اب ایسا ناسور بن چکا ہے، جس کا علاج شاید بہت لمبے عرصے تک ممکن نہیں۔
17 جنوری 2026 کی رات گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا، اس نے پورے انتظامی نظام کو برہنہ کردیا۔ بلڈنگ کنٹرول سے لے کر فائر بریگیڈ، انتظامیہ سے لے کر سیاسی قیادت تک۔ سب جوابدہ ہیں۔
گل پلازہ، جو ایم اے جناح روڈ جیسے مصروف ترین تجارتی مرکز پر واقع تھا، کاغذوں میں ایک ’’منظور شدہ‘‘ عمارت تھی، مگر حقیقت میں یہ عمارت خلافِ قانون تعمیرات، غیر قانونی دکانوں، بند ہنگامی راستوں اور مکمل فائر سیفٹی فقدان کی زندہ مثال تھی۔
بیسمنٹ جسے نقشے میں کار پارکنگ کے لیے مختص کیا گیا تھا، وہاں دکانیں بنا دی گئیں۔ خارجی راستوں پر بھی کاروبار سجا دیے گئے۔
یہ سب کچھ بغیر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی’’ مہربانی‘‘ کے ممکن نہیں تھا۔ کروڑوں روپے کے عوض منظور شدہ نقشوں کی دھجیاں اڑائی گئیں اور آخرکار اس کی قیمت کراچی کے عام شہریوں نے اپنی جانوں سے چکائی۔
آگ ہفتے کی رات تقریباً 10 بج کر 14 منٹ پر ایک آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان سے لگی۔ وہ وقت، وہ دن، وہ مقام سب کچھ گویا ایک سانحے کے لیے سازگار تھا۔
ویک اینڈ، سرکاری دفاتر بند، شہر میں ٹریفک کا ہجوم اور پلازہ میں غیر معمولی رش۔ آگ کی اطلاع بروقت نہ پہنچ سکی، ریسکیو اور فائر ٹینڈر تاخیر سے پہنچے اور جب پہنچے تو تنگ راستے، عوام کا ہجوم اور ناکافی وسائل آڑے آ گئے۔
یہ بات اب ریکارڈ پر آچکی ہے کہ گل پلازہ میں نہ ہنگامی اخراج کے راستے تھے، نہ فائر الارم، نہ اسپرنکلر سسٹم، نہ ابتدائی آگ بجھانے کا کوئی انتظام۔
عمارت میں دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 سے زائد ہو چکی تھی۔ ایک ایسی عمارت جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا ہو، وہاں فائر سیفٹی زیرو ہونا محض غفلت نہیں، یہ مجرمانہ لاپرواہی ہے۔
سانحے کے بعد سامنے آنے والے اعداد و شمار مزید خوفناک ہیں۔ اب تک تا دمِ تحریر 71 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہیں جب کہ تقریباً 77 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں پھیلے ملبے سے متعدد لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کے عمل کی ضرورت پڑرہی ہے اور متعدد خاندان اپنے لواحقین کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے فراہم کررہے ہیں۔
تاہم شدید طور پر جھلس جانے کے باعث اب تک صرف 20 افراد کی شناخت ممکن ہوسکی ہے، جن میں 13 افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی ہے، جب کہ 51 لاشیں تاحال ناقابلِ شناخت ہیں۔
شناختی عمل کے لیے 71 لاشوں اور 55 خاندانوں سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں، اور جن میں سے 50 افراد کی آخری بار گل پلازہ میں موجودگی کی تصدیق بھی ہوگئی، جب کہ پولیس سرجن آفس کے مطابق ایک ہی دکان سے ملنے والی 25 سے 30 افراد کے لاشوں کی باقیات میں سے بیشتر اس قابل بھی نہیں کہ ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جا سکیں، تاکہ لواحقین کم از کم اپنے پیاروں کی زندگی کے لیے منتظر آنکھوں کو مطمئن کرسکیں۔
فائر بریگیڈ حکام خود اعتراف کر رہے ہیں کہ شہر میں موجود فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور آلات ناکافی ہیں۔ کئی گاڑیاں خراب،کئی میں ڈیزل تک موجود نہیں۔
سفارش پر بھرتی، غیر تربیت یافتہ عملہ، ناقص حفاظتی سامان، یہ سب وہ حقائق ہیں جو برسوں سے فائلوں میں دبے رہے، مگر گل پلازہ کی آگ نے انھیں جلتی راکھ میں بدل کر سب کے سامنے رکھ دیا۔
چیف فائر آفیسر کا یہ کہنا کہ’’ 37 سالہ سروس میں ایسی آگ نہیں دیکھی جو بیک وقت ہر جگہ لگی ہو‘‘ اس نظام کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ریجنٹ پلازہ، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری، عرشی شاپنگ مال، آر جے شاپنگ مال اور کراچی کی تاریخ آگ سے لکھی جا رہی ہے۔
ہر سانحے کے بعد انکوائری، کمیٹیاں، بیانات، وعدے اور پھر خاموشی۔ فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 77 فیصد عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا سامان ہی موجود نہیں، مگر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کسی نے اخلاقی ذمے داری قبول نہیں کی۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں ایسے سانحات پر اعلیٰ افسران مستعفیٰ ہو جاتے ہیں۔
یہاں نہ عہدہ جاتا ہے، نہ تنخواہ کٹتی ہے، نہ ضمیر جاگتا ہے۔ متاثرین کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ بھی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے، یعنی مرنے والوں نے اپنی جان دی اور لواحقین اور زندہ لوگ اپنی جیب سے ہرجانہ ادا کرتے ہیں، جب کہ قصور وار محفوظ رہتے ہیں۔
گل پلازہ کی آگ دراصل ایک سوال ہے۔ کیا کراچی کی جانیں اتنی سستی ہیں؟ کیا اربوں روپے کا کاروبار فائر سیفٹی سے زیادہ اہم ہے؟ کیا بلڈنگ کنٹرول، فائر بریگیڈ اور ریاست صرف لاشیں گرنے کے بعد ہی حرکت میں آتی رہے گی؟
یہ سانحہ ایک انتباہ ہے، اگر اب بھی غیر قانونی تعمیرات، کرپشن اور فائر سیفٹی سے مجرمانہ غفلت پر سخت کارروائی نہ ہوئی توگل پلازہ آخری واقعہ نہیں ہوگا۔ یہ شہر پہلے ہی راکھ میں کھڑا ہے، اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم اس راکھ سے انصاف کی بنیاد رکھیں گے یا اگلی آگ کا انتظار کریں گے؟