زمانہ طالب علمی کی بات ہے جب میں پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا، والد محترم صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ گھر میں اخبارات، رسائل اور کتب آتی تھیں جنھیں میں حسب استطاعت پڑھ ڈالتا تھا۔
اس بے سمت اور بے ترتیب مطالعے کا مجھے کوئی مادی فائدہ تو نہ ہوا، البتہ مجھے مستقل پڑھتے رہنے کی ایک عادت پڑگئی، اس عادت نے جہاں مجھے غیر ضروری اور غیر افادی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا، وہاں میرے سماجی شعور میں اضافے کا باعث بنا، اس سماجی شعور نے میری عملی زندگی میں بڑی رہنمائی کی اور یہ مطالعہ معاون ثابت ہوا۔
کہتے ہیں کہ زندگی مصروف ہو یا نہ ہو کتابیں پڑھنے کا شوق ایک ایسا معاملہ ہے جو اگرکسی کو لاحق ہو جائے یا اس کا ذائقہ منہ کو لگ جائے تو یہ عشق کی طرح جان کے ساتھ ہی جاتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے میں اپنی عملی زندگی کی درجنوں الجھنوں اپنی معاشی سرگرمیوں اور دیگر سماجی ذمے داریوں کی ادائیگی کے باعث ہمیشہ مطالعے کے لیے وقت کی کمی کا شکار رہا، لیکن اس کے باوجود مطالعے کا شوق جاری رہا اور آج بھی جاری ہے۔
ذاتی حوالے سے یہ تمام باتیں تحریرکرنے کا مقصد یہ بتانا مقصود ہے کہ مطالعے کا شوق اور ذوق اخبارات، رسائل اور کتب کے تسلسل کے ساتھ مطالعے کے ذریعے ہی بیدارکیا جا سکتا ہے۔
مطالعے کے شوق کو بیدار کرنے کا کوئی مصنوعی طریقہ نہیں، اگر اچھے اساتذہ، مناسب ماحول اور والدین کی رہنمائی بھی مل جائے تو یہ عوامل آپ کے شوق کو مزید اجاگر کر سکتے ہیں، اگر اس کے ساتھ آپ کو کتابیں پڑھنے والوں کی صحبت اور ہم نشینی بھی میسر آجائے تو سمجھ لیں کہ آپ کے شوق کو چار چاند لگ گئے ہیں۔
ایسے دوست اور احباب کی صحبت میں رہ کر آپ کو مطالعے کی ضرورت اور اس کی افادیت کا اندازہ ہو سکے گا اور آپ کا یہ شوق مزید جلا پائے گا۔ مطالعے سے علمی سفرکی ابتدا ہوتی ہے، اس کی انتہا کوئی نہیں۔ ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب علم کے دروازے کھولتی ہے اور یوں علم کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مطالعہ کیوں ضروری ہے؟ اس کا حاصل کیا ہے، انسان کے مزاج اور اس کی شخصیت کو متوازن رکھنے میں بہت سے عوامل کلیدی کردار ادا کرتے ہیں مگر سب سے بڑا اور فیصلہ کن کردار مطالعے کا ہوتا ہے، اس سے فکری سطح بلند ہوتی ہے، سوچ کو نئے زاویے فراہم ہوتے ہیں جس سے انسان میں معاملہ فہمی کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ انسانی شخصیت کی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مطالعہ کیسے کیا جائے؟ اس ضمن میں بنیادی بات ذہن میں رکھیں، زندگی محدود ہے اور علم لامحدود اس لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان سارا علم حاصل کر سکے۔ فرض کریں آپ ہر روز مطالعے کے عادی ہیں اور آپ چند سو صفحات کی کتاب تین سے چار روز میں مطالعہ کرکے ختم کر دیتے ہیں تو اس حساب سے آپ اپنی چالیس سے پچاس سال کی زندگی میں پانچ ہزار سے زیادہ کتابیں نہیں پڑھ سکتے۔
دنیا میں لاکھوں کتب موجود ہیں، آپ کے لیے سب کا مطالعہ ممکن نہیں، لہٰذا آپ اپنے شوق اور ذوق کے مطابق منتخب کتب کا ہی مطالعہ کریں، آپ کا یہ عمل آپ کے لیے مفید رہے گا۔
کتاب کے انتخاب کے وقت کتاب کے اسلوب کو نظرانداز نہ کریں،کتاب کا اسلوب آپ کے مزاج سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اگر اسلوب آپ کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہے تو آپ کتاب کے مطالعے سے جلد بے زار ہو جائیں گے اور آپ کا یہ عمل آپ کی مطالعے سے دوری کا سبب بنے گا۔
زندگی کو سلیقے سے گزارنے کے لیے ادب کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ہمارے یہاں تفریحی ادب کو پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لوگ ذہنی آسودگی کی خاطر اس جانب زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ بعض علمی حلقے تفریحی ادب کو غیر افادی اور وقت گزاری کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
میری ذاتی رائے میں تفریحی ادب غیر افادی نہیں، اس کی اپنی جگہ ایک افادیت ہے۔ میں تفریحی ادب کو مطالعے کی پہلی سیڑھی خیال کرتا ہوں کیونکہ بعد میں یہ تفریحی ادب علمی اور ادبی مطالعے کی طرف راغب کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔
تاہم یہ ایک حقیقت ہے تفریحی ادب وقتی اور لمحاتی ہوتا ہے جب کہ علمی اور ادبی مطالعے میں نہ صرف وسعت ہوتی ہے بلکہ اس کی اپنی افادیت بھی ہے یہ وقت کی قید سے آزاد ہے، یہ نسل در نسل مستقل کی جانب سفر کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اس لیے مطالعے میں اسے اولین حیثیت دی جانی چاہیے یعنی علمی کتابوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ بعض لوگ کسی خاص موضوع کو ہدف بنا کر نہیں پڑھتے بلکہ بغیر منصوبہ بندی کے جو کتاب ہاتھ آئی الٹ پلٹ کر اس کی ورق گردانی کرتے ہیں، جہاں دلچسپی محسوس ہوئی پڑھ ڈالی ورنہ وہیں رکھ دی جہاں سے اٹھائی تھی۔
مطالعے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے بلکہ کتاب کے موضوع کو ہدف بنا کر منصوبہ بندی کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہیے، اسی صورت میں ہی آپ کتاب کے مطالعے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
کتابوں کے انتخاب میں ہمیشہ احتیاط ذہن میں رکھیں، ایسی کتابیں جو لسانی تعصبات، نسلی امتیازات اور فرقہ واریت کو فروغ دیتی ہیں، ان کو پڑھنے سے گریز کریں، انتہا پسندانہ تحریر کے مطالعے کے نتیجے میں انسان نہ صرف تنگ نظر ہو جاتا ہے بلکہ مطالعے کی افادیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے اس میں ایسے منفی جذبات جنم لیتے ہیں جن میں وہ ایک ایسی چمگادڑ بن جاتا ہے جسے روشنی میں بھی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔
یہ میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ جب میں پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کو جو مطالعہ نہیں کرتے ہیں مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتا ہوں تو یہ لوگ وقت کی کمی اور کتابوں کے حصول کے لیے وسائل کی کمی کی شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
میرے نزدیک مطالعے کا ذوق اور شوق ایک فطری جذبہ ہے اگر یہ جذبہ بیدار ہو جائے تو کتاب حاصل کرنے اور اس کے مطالعے کے لیے وقت اور وسائل انسان خود حاصل کر لیتا ہے۔
اس حوالے سے اسے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ تاریخ اور سیاست کے مطالعے کے ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ تاریخ سیاست اور تحقیق ہم سے غیر جانب داری اور سائنسی انداز فکرکا مطالبہ کرتی ہے۔ ہم تاریخ، سیاست اور تحقیق کے مطالعے کے وقت اس کے بالکل برعکس عمل اختیارکرتے ہیں۔
ہم تاریخ، تحقیق اور سیاست کو اپنے جذبات کی عینک سے دیکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم سیاسی اور تاریخی شعور سے محروم ہو جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ سیاست، تاریخ اور تحقیق کا مطالعہ آزادی فکر کے ساتھ کیا جائے، اسی صورت میں ہم مطالعے سے مستفید ہو سکیں گے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ ساری زندگی علم حاصل کرتے ہیں، کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اس سے مستفید بھی ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنا علم دوسروں تک منتقل نہیں کرتے، ایسے لوگ اپنی موت کے ساتھ اپنا تمام علم اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں جو لوگ مطالعے کا ذوق اور شوق رکھتے ہیں اور صاحب مطالعہ ہیں انھیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کتابوں کے مطالعے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں جو علمی بصیرت عطا کی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ یاد رکھیں یہ رب تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور معاشرے کی ضرورت بھی۔