پرانی کاروں کی کلیئرنس رکنے سے18ارب کی کسٹم ڈیوٹی پھنس گئی

فرسودگی الائونس میں کمی پرڈیلرزنے استعمال شدہ درآمدی کاروں کی کلیئرنس روک دی تھی،پورٹ پر12ارب کی 6500گاڑیاںموجود

ڈیلرزوفدآج چیئرمین ایف بی آرکومعاملے پرتحفظات سے آگاہ اور کسٹم جنرل آرڈر واپس لینے کا وعدہ پورا کرنے کی اپیل کریگا،ایچ ایم شہزاد فوٹو : فائل

SIALKOT:
کسٹم جنرل آرڈر کے ذریعے استعمال شدہ کاروں پر فرسودگی الائونس میں کمی کے فیصلے کے بعد درآمدی کاروں کی کلیئرنس رکنے سے 18ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی کی وصولیاں بھی پھنس گئی ہیں۔

آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق پورٹ پر 6500 سے زائد کاریں موجود ہیں جن کی مالیت 10سے 12ارب روپے بتائی جاتی ہے، کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 18ارب روپے ادا کیے جانے تھے۔

تاہم کسٹم جنرل آرڈرز کے ذریعے فرسودگی الائونس میں کمی کے بعد ڈیوٹیوں کی مالیت بڑھ گئی اور ڈیلرز نے کاروں کی کلیئرنس روک دی ہے۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق ڈیلرز کا وفد جمعہ 28 ستمبر کو چیئرمین ایف بی آر ارشد علی حکیم سے ملاقات کرکے کسٹم جنرل آرڈر پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کسٹم جنرل آرڈر واپس لینے کی یقین دہانی پوری کرنے کی اپیل کرے گا۔


انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ کاروں کی درآمد سے پاکستانی صارفین کو حفاظتی سہولتوں کے ساتھ بھرپور اور وسیع رینج دستیاب ہورہی ہے، اس سے قبل مقامی سطح پر تیار کاروں میں انتہائی محدود ورائٹی کی وجہ سے صارفین مقامی کاریں خریدنے پر مجبور تھے، استعمال شدہ کاروں کی ڈیمانڈ میں اضافے کی اہم وجوہ میں وسیع رینج، ورائٹی اور حفاظتی سہولتیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی کاروںمیں 660سی سی کی رینج میں 9ماڈلز دستیاب ہیں جن میں اب 6 حفاظتی بیگز والی کاریں پاکستان آرہی ہیں، ایک ہزار سی سی میں 10سے 12ماڈلز دستیاب ہیں جن میں سے بیشتر کاروں میں 8حفاظتی بیگز ہیں، 1300سی سی میں 10ماڈلز جبکہ 1500اور 1800 سی سی میں بھی 8سے 10ماڈلز دستیاب ہیں جن میں 4 سے 6 سیفٹی بیگز مہیا کیے جارہے ہیں۔

درآمدی کاروں میں سب سے اہم اینٹی لاک بریکنگ سسٹم (اے بی ایس) نصب ہے جو کاروں کو ہنگامی بریک لگانے بالخصوص پھسلن والی جگہ پر بریک لگانے کیلیے استعمال ہوتا ہے۔ ایچ ایم شہزاد نے دعویٰ کیا کہ مقامی سطح پر تیارکردہ کاروں میں حفاظتی سہولتوں کا فقدان ہے، مقامی سطح پر 660سی سی کی کوئی کار تیار نہیں ہورہی۔

اسی طرح ایک ہزار سی سی کی 2 کاریں بھی تیار کرنا بند کردی گئی ہیں جس کے بعد ایک ہزار سی سی کی کار کے صرف 2 ماڈلز مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن میں کوئی حفاظتی سہولت نہیں ہے۔
Load Next Story