2013 کے انتخابات کالعدم قراردینے کی درخواستیں خارج
درخواست گزارعدالت کے سامنے یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ آئین کے آرٹیکل 225 کے ہوتے ہوئے یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے انتخابات 2013 کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر 3 درخواستوں کو خارج کردیا۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے عام انتخابات 2013 کو کالعدم قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج شاہد صدیقی، سابق وفاقی وزیرمیاں زاہد سرفراز اور غزنوی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پردھاندلی ہوئی اورعوام کے حق پرڈاکا ڈالا گیا اس لئے 11 مئی 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کو کالعدم قراردیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار عدالت کے سامنے یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ آئین کے آرٹیکل 225 کے ہوتے ہوئے یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔
عدالت کی جانب سے درخواست گزاروں کو کہا گیا کہ آرٹیکل 225 کے تحت الیکشن کے بعد مخالف امیدوار ہی انتخابی عذاداری کے ذریعے الیکشن ٹریبونل میں دھاندلی کو چیلنج کرسکتا ہے اگر کوئی دوسرا شخص انتخابات کو چیلنج کرنا چاہتا ہے توکووارنٹو کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کرسکتا ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ عدالت نے تینوں درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔