پی ایس او کی پی آئی اے کو ایندھن فراہمی بند کرنے کی دھمکی
پی ایس او کے مطابق ایندھن کی فراہمی کی مد میں پی آئی اے کے ذمے واجبات12ارب10کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
پی آئی اے کو ایندھن کی فراہمی سے متعلق نئے لائحہ عمل کا فیصلہ اب منگل کی شام تک ہی کیا جائے گا، ترجمان پی ایس او۔ فوٹو: فائل
پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) نے واجبات کی عدم ادائیگی پر قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کو ایندھن کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ترجمان پی ایس او کے مطابق ایندھن کی فراہمی کی مد میں پی آئی اے کے ذمے واجبات12ارب10کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئے ہیں اور بارہا یاد دہانیوں کے باوجود پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق واجبات کی عدم ادائیگی کی بنا پر پی ایس او نے پیر کی دوپہر ایک بجے سے پی آئی اے کے اے ٹی آر طیاروں کو ایندھن کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم بعد ازاں ایم ڈی پی آئی اے نے منگل کی شام 5 بجے تک 2 ارب روپے کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد پی آئی اے کے طیاروں کو ایندھن کی فراہمی کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پی ایس او کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ایندھن کی فراہمی سے متعلق نئے لائحہ عمل کا فیصلہ اب منگل کی شام تک ہی کیا جائے گا۔
ترجمان پی ایس او کے مطابق ایندھن کی فراہمی کی مد میں پی آئی اے کے ذمے واجبات12ارب10کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئے ہیں اور بارہا یاد دہانیوں کے باوجود پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق واجبات کی عدم ادائیگی کی بنا پر پی ایس او نے پیر کی دوپہر ایک بجے سے پی آئی اے کے اے ٹی آر طیاروں کو ایندھن کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم بعد ازاں ایم ڈی پی آئی اے نے منگل کی شام 5 بجے تک 2 ارب روپے کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد پی آئی اے کے طیاروں کو ایندھن کی فراہمی کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پی ایس او کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ایندھن کی فراہمی سے متعلق نئے لائحہ عمل کا فیصلہ اب منگل کی شام تک ہی کیا جائے گا۔