آپریشن ضرب عضب اور بھارتی کردار

امریکا اب بھارت اور پاکستان کےباہمی معاملات میں مداخلت سےگریزکررہا ہےکیونکہ وہ بھارت سےاپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان کے بارے میں پالیسی خاصی جارحانہ ہے اور وہ اپنے بیانات سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ فوٹو فائل

BURLINGTON, VT, US:
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکا جنوبی ایشیا میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال اور مستقبل میں درپیش سلامتی کے امور کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

واشنگٹن میں ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکا کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی جرنیل نے امریکی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے جس طرح کی سخت کارروائی ہو رہی ہے اور جس طرح کے بیانات آ رہے ہیں وہ ہماری مہم پر اثر انداز ہو رہے ہیں' لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان کے بارے میں پالیسی خاصی جارحانہ ہے اور وہ اپنے بیانات سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ بھارت اکثر و بیشتر یہ پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے لیکن ایسے وقت میں جب پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے بھارت کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے تھا تاکہ خطے میں امن و امان کا قیام یقینی بنایا جاتا لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ اس نے اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے مشرقی سرحد پر اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔آخر اس کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے خبروں کے مطابق اب تک دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کے مختلف واقعات میں دونوں جانب اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ بدھ کو بھی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے بھارتی فوج نے ایک بار پھر پاکستانی علاقے پیری نوٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس سے ایک خاتون شدید زخمی ہو گئی۔ سرحد پر ہونے والی اشتعال انگیزی کی تمام کارروائیاں بھارت کی جانب سے ہو رہی ہیں جب کہ پاکستانی فورسز کو مجبوراً جوابی فائرنگ کرنا پڑرہی ہے۔


پاکستان نے کئی بار اس سلسلے میں بھارت سے احتجاج بھی کیا لیکن بھارتی حکومت ایک طے شدہ منصوبے کے تحت سرحدوں پر کشیدگی کو ہوا دے کر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ کے دوران امریکی حکام کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر ایک لاکھ چالیس ہزار فوج تعینات کر رکھی ہے انھیں یہ امید تھی کہ مشرق میں بھارت سے متصل سرحد پر امن رہے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ ادھر امریکی اہلکار شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کی تعریف تو کر رہے ہیں لیکن وہ پاکستان کی مشرقی سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اب بھارت اور پاکستان کے باہمی معاملات میں مداخلت سے گریز کر رہا ہے کیونکہ وہ بھارت سے اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں وہ بھارتی جارحیت سے مسلسل صرف نظر کر رہا ہے۔ اب جب پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی حکام کو خطے کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے تو امریکا پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ ایک جانب وہ پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں کرے اور بلاتفریق تمام دہشت گرد گروپس کو ختم کرے۔

امریکا اگر خطے میں حقیقی معنوں میں امن اور دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے بھارتی جارحیت روکنے کے لیے پاکستانی مطالبے پر غور کرنا ہو گا اس کی نظر اندازی کی پالیسی سے بھارت کو شہ مل رہی ہے اور وہ پاکستان کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب تیزی سے جاری ہے اور اس میں پاکستانی فوج نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستانی فوج کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پانچ ماہ سے جاری آپریشن میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200سے زائد شدت پسند ہلاک' ان کے 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر کا اس علاقے سے صفایا کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پاکستان نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسی تنظیموں کے خلاف بھی اس کی کارروائیاں جاری ہیں کیونکہ یہ تنظیمیں سب کے لیے خطرہ ہیں۔

پاکستان کو جہاں مشرقی سرحد پر مشکل صورت حال کا سامنا ہے وہاں خراب افغان سرحدی صورت حال بھی اس کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ افغانستان سے آنے والے درانداز پاکستانی سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں سب پر عیاں ہیں جس کا امریکا بھی معترف ہے۔ امریکا اگر خطے میں حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو اسے پاکستان کی مشرقی اور شمال مغربی سرحدوں پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی خاموشی توڑ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
Load Next Story