بات کچھ اِدھر اُدھر کی بیماری یا جادوٹونا

اس بچے کی گردن پرکٹ لگتا جارہا تھا، جیسے کوئی تیزدھارآلے یا بلیڈ سے گردن کوکاٹ رہا ہو۔

اس بچے کی گردن پرکٹ لگتا جارہا تھا، جیسے کوئی تیزدھارآلے یا بلیڈ سے گردن کوکاٹ رہا ہو۔ فوٹو؛ آصف محمود

اس بچے کی گردن پرکٹ لگتا جارہا تھا، جیسے کوئی تیزدھارآلے یا بلیڈ سے گردن کوکاٹ رہا ہو،اس کٹ سے خون بہنا شروع ہوگیا ، گردن پرلگنے والے کٹ کی وجہ سے 6 سالہ علی حسنین کی چیخیں نکل رہیں تھی ،اس کا باپ بے بسی سے بیٹے کی گردن پرخود بخود لگنے والے کٹ کو دیکھ رہا تھا اورمضبوطی سے اپنے جگرگوشے کو بھی پکڑرکھا تھا جو درد کی وجہ سے مچھلی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا۔ دور بیٹھی اس بدقسمت بچے کی ماں بیٹے کی حالت پرآنسو بہارہی تھی ،میرے لئے یہ منظرانتہائی حیرت انگیزتھا ،مجھے جہاں اس معصوم بچے کی حالت دیکھ کردکھ اورافسوس ہورہا تھا وہیں بچے کے جسم پرلگنے والے اس جیسے بہت سے زخموں کا پس منظرجان کرخوف بھی آرہا تھا۔


چند ہفتوں قبل مجھے ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ لاہورمیں سلامت پورہ کے علاقے میں ایک شخص کے تین بچوں پرآسیب کا سایہ ہے ،اس کے بچوں کے جسم پرخود بخود کٹ لگ جاتے ہیں جن سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، آپ اس کو دیکھ لیں ،شاید اس غریب کے بچوں کا کوئی علاج ہوسکے۔ میں نے اس سے وعدہ کرلیا اورایک دن اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پرجاپہنچا، یہ کوئی باقاعدہ گھرنہیں تھا بلکہ ایک مقامی شخص کا ڈیرہ تھا جس میں ایک ہی کمرہ بنا ہواتھا،جبکہ ایک طرف مویشیوں کے باندھنے کی جگہ تھی۔ یہاں میری ملاقات علی عباس سے ہوئی، جس کے تین بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی کچھ عرصے سے ایک عجیب اذیت کا شکارہیں۔ علی عباس کا تعلق شکرگڑھ کے نواحی علاقہ چکڑا بڑوال ہے لیکن اب وہ اس امید پرلاہورمیں رہتا ہے کہ شاید یہاں اس کے بچوں کاکوئی علاج ممکن ہوسکے گا ،علی عباس ردی کاغذ اکھٹے کر گھرکا چولہا جلاتا ہے۔


علی عباس کے تینوں بچوں کے جسم گہرے زخموں سے بھرے پڑے ہیں ، سب سے زیادہ کٹ علی حسنین کے جسم پر ہیں۔ 6 سال کا یہ بچہ خون کی مسلسل کمی سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے ،چلنا پھرنا تو دورکی بات یہ ننھا فرشتہ بغیرسہارے کے بیٹھ بھی نہیں سکتا تاہم اس کے چھوٹے بھائی چارسالہ زین اور دو سال کی ایمان زہرا کی حالت قدرے بہترہے۔


بچوں کی حالت دیکھ کرایسے لگتا ہے جیسے کسی تیزدھارآلے یا چاقو سے کٹ لگائے ہیں۔ میراخیال تھا کہ شاید یہ کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے جسم پر اس طرح کا زخم بن جاتا ہے اوراس میں سے خون بہنا شروع ہوجاتاہے، لیکن علی عباس کا کہنا تھا کہ نہیں صاحب یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جادو ٹونے کا اثر ہے ، وہ مجھے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بتارہا تھا کہ اس دوران علی حسنین نے درد سے چیخنا شروع کردیا ،بیٹے کو دیکھ کر باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور کہنے لگا دیکھیں صاحب ،یہ دیکھیں ایسے زخم لگتا ہے اورخون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور میں خوف اورحیرت کے ملے جلے جذبات میں اس بچے کو دیکھ رہا تھا۔ چند منٹ بعد کٹ لگنا رک گیا، کوئی تین انچ لمبا کٹ تھا ،کٹ زیادہ گہرا نہیں تھا اس وجہ سے خون آہستہ نکل رہا تھا۔



فوٹو؛ آصف محمود


علی عباس نے زخم پر روئی لگادی جس سے خون نکلنا بند ہوگیا اورتھوڑی دیربعد علی حسنین کی چیخیں بھی بند ہوگئیں ،اس لاغراوربیمارجسم میں خون تھا ہی کتنا جو نکلتا پاتا،اس لئے خود بخود ہی خون نکلنا بند ہوگیا،بچے کی حالت سنبھلنے کے بعد علی عباس دوبارہ متوجہ ہوااوربچوں کی اس حالت کا پس منظربتانے لگا۔



علی عباس نے بتایا اس کا سب سے بڑابیٹا علی حسنین ذہنی معذورہے ،اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں کٹ نہ لگے ہوں،اس بچے کو کئی بارخون بھی لگوایا جاچکا ہے لیکن اب ڈاکٹر بھی ان کا علاج نہیں کرتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کے جسم سے لوہے اور پیتل کی سوئیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ بچوں کی والدہ سلمی نے بتایا کہ وہ اپنے جگرگوشوں کے علاج کےلئے نجانے کتنے عاملوں ،پیروں اور ڈاکٹروں کے پاس جا چکے ہیں لیکن پیسہ ضائع ہونے کے علاوہ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ان کے بقول کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ایک بزرگ سے دعا کروائی جس کے بعد چند ماہ تک بچوں کی حالت بہتررہی لیکن اس کے بعد پھران کی ایسی حالت ہونا شروع ہوگئی ۔



فوٹو؛ آصف محمود


میں نے ان سے ڈاکٹروں کی رپورٹس اورلاہورمیں جس ڈاکٹرسے وہ بچے کا علاج کرواتے رہے اس کا نام پتہ لیکرواپس لوٹ آیا ،اگلے روز میں لاہورکے اس معروف ڈاکٹرسے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اپنی زندگی میں انہوں نے ایسا مرض نہیں دیکھا ،اس طرح کی کچھ بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے جسم کے کسی حصے پرپھوڑا، پھنسی ہوسکتی ہے لیکن اس طرح کٹ لگنا اوران سے خون بہنا یہ کوئی بیماری نہیں ہے، یہ جادو ٹونے کا ہی چکر ہے ،آپ کسی بھی ڈاکٹرکو دکھا لیں وہ آپ کو یہی جواب دے گا۔ میری امید دم ٹوڑنے لگی ،میرا خیال تھا کہ یہ کوئی بیماری ہوگی جس کا علاج ہوسکے گا ، وہ لوگ شاید غربت کی وجہ سے علاج نہیں کروا پا رہے ہیں، میں کسی مخیرشخص یا صوبائی مشیر صحت سے کہہ کران بچوں کا علاج کروادوں گا لیکن جب ڈاکٹرنے جواب دیا تو میں مایوس ہوگیا۔ پھرمیں نے سوچا کہ کیوں نہ کسی روحانی شخصیت سے رابطہ کیا جائے ،ایک بزرگ سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا بچوں کو اور ان کے والد کو ان کے پاس بھیج دیں اللہ پاک کرم کرے گا، میں نے علی عباس تک پیغام پہنچادیا کہ وہ فلاں بزرگ سے جاکرمل لیں اور یوں میں مطمئن ہوگیا کہ چلیں اس غریب آدمی کے بچے ٹھیک ہوجائیں گے ۔


کوئی ایک ہفتے بعد مجھے انہیں بزرگ کا پیغام ملا کہ جس شخص بارے آپ نے بتایا تھا وہ آیا نہیں اپنے بچوں کو لے کر،میں نے علی عباس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگررابطہ نہ ہوسکا ،مجھے بتایا گیا کہ وہ بچوں کو لیکر واپس گاؤں چلا گیا ہے ، جس دوست کے حوالے سے علی عباس سے رابطہ ہوا تھا میں نے اس کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس سے رابطہ کرے ، کوئی دو ہفتے بعد مجھے علی عباس کا فون آیا ،میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی آپ گئے کیوں نہیں ان بزرگ کے پاس ،آپ کے بچے کیسے ہیں ،علی عباس نے رندھی ہوئی آوازمیں کہا صاحب بہت دیرہوچکی تھی ،جس دن آپ ملے تھے اس کے دو دن بعد ہی میرابیٹا فوت ہوگیا تھا۔


اس کا جواب سن کرمیراسرشرمندگی سے جھک گیا ، میں خود کو اس بچے کا قاتل سمجھ رہا تھا ،اگرمیں اسی دن بچے کے لئے کچھ کردیتا توشاید اس کی جان بچ جاتی ،لیکن وہ غریب آدمی میراشکریہ ادا کررہا تھا ،اس نے بتایا کہ اس کی ان بزرگ سے ناصرف بات ہوگئی تھی بلکہ وہ اپنے دوسرے بچوں کو لیکر ان کے پاس گئے تھے ،ان بزرگوں نے دعا کی ہے اورکچھ ہدایات بھی دیں ہیں ، اب اس کے بچوں کی حالت بہترہے آپ اللہ سے دعا کرتے رہئے گا۔


یہ میری علی عباس سے آخری گفتگو تھی ،اس کے بعد نااس کا کبھی فون آیا اورنہ ہی اس کے نمبرپرکوئی رابطہ ہوسکا ،اب بھی جب کبھی تنہائی میں بیٹھا سوچتا ہوں تو دماغ گھوم جاتا ہے، آخریہ سوچ کربلاگ لکھا کہ اپنے اس اندرکے دکھ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتاہوں شاید کوئی بوجھ ہلکا ہوجائے۔


نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
Load Next Story