ایم کیو ایم کا کارکنان کی ہلاکت پر آج ملک بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان

سندھ حکومت نسل پرستی پر اتر آئی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ کو کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کا جواب دینا پڑے گا، قمر منصور

پولیس کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی بلکہ ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنوں کو چُن چُن کر گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر انسانیت سوز مظالم کئے جاتے ہیں، انچارج رابطہ کمیٹی قمر منصور فوٹو: ایکسپریس نیوز

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کارکنان کی ہلاکت پر آج ملک بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان کرتے ہوئے تاجر اور ٹرانسپورٹرز سے کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے انچارج قمر منصور نے کہا کہ سید فراز عالم کو جب 28 دسمبر کو پولیس کی خفیہ ٹیم نے حراست میں لیا تو اس وقت اس پر کوئی مقدمہ نہیں تھا، پولیس نے فراز پر بہیمانہ تشدد کرکے اسے کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کے حوالے کردیا جہاں سے اس کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر بنانے کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اسے کھوکھرا پار پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے فراز عالم کو 3 جنوری کو عدالت کے سامنے پیش کیا جہاں فراز نے جج کو اپنے جسم پر تشدد کے نشانات بھی دکھائے، حراست کے دوران پولیس حکام نے فراز عالم کے اہل خانہ سے رقوم وصول کیں جس کے شواہد موجود ہیں جو ہم عدالتی کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔

قمر منصور کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ہمارے کارکن عبد الرؤف کو شاداب منزل گلبرگ کے سامنے مسلح افراد نے شہید کردیا جب کہ ہمارے 2 ہمدرد ڈاکٹروں کو بھی ان کے کلینکس میں گھس کر قتل کردیا لیکن پولیس ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی بلکہ ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنوں کو چُن چُن کر گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر انسانیت سوز مظالم کئے جاتے ہیں لیکن ایم کیو ایم اب پولیس کے مظالم پر خاموش نہیں رہے گی، ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھی کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کا جواب دینا پڑے گا کیونکہ سندھ حکومت اب نسل پرستی پر اتر آئی ہے۔


ایم کیوایم کی جانب سے کارکنان ندیم احمد اور فراز عالم کی ہلاکت پر آج ملک بھر میں یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور اس موقع پر رابطہ کمیٹی نے تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کی اپیل کی ہے جبکہ یوم سوگ پر ملک بھر میں کارکنان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔

دوسری جانب کھوکھرا پار تھانے میں زیر حراست ایم کیو ایم کا کارکن ہلاک ہوگیا جس کے بعد ورثا نے فراز عالم پر پولیس کی جانب سے شدید تشدد کا الزام لگایا ہے اور اس کی ہلاکت پر شدید احتجاج بھی کیا، ورثا کا کہنا تھا کہ پولیس نے فراز عالم کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، اس کے جسم پر انجیکشن اور تشدد کے نشانات تھے، ملزم کی رہائی کے عوض پولیس نے 10 لاکھ روپے بھی طلب کیے تھے جو نہ دینے پر اسے قتل کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے زیر حراست ملزم کی ہلاکت پر ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
Load Next Story