مثبت پیش رفت

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذہبی جماعتوں کی جانب سے جو مثبت ردعمل سامنے آیا ہے وہ خوش آیند ہے۔

دہشت گردی کے ذمے دار صرف چند ایک مدارس یا تنظیمیں ہی نہیں ہیں بلکہ حکومت اور اس کے ادارے بھی اس میں برابر کے حصہ دار ہیں، فوٹو : پی آئی ڈی

ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے خود کش حملوں اور ملک کے خلاف مسلح جدوجہد کو حرام قرار دیا ہے، انھوں نے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی پر بھی اتفاق کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں ہفتے کو اسلام آباد میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس ہوا جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے علاوہ مذہبی جماعتوں اور دینی مدارس کی پانچوں نمایندہ تنظیموں کے ذمے داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے تمام مدارس کو رجسٹریشن کا پابند بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق رجسٹریشن کو آسان اور یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اتفاق رائے سے ایک جامع رجسٹریشن فارم تیار کرے گی تاکہ تمام کوائف ایک ہی وقت میں حاصل ہو سکیں۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذہبی جماعتوں کی جانب سے جو مثبت ردعمل سامنے آیا ہے وہ خوش آیند ہے اور پہلی بار تمام مذہبی جماعتوں اور دینی مدارس کی تنظیموں نے مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد عناصر کا ہر ممکن خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مدارس دینی تعلیمات کو عام کرنے کا فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں اور یہ بات منظرعام پر آ چکی ہے کہ ان کی بڑی اکثریت کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی اسی جانب نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد سے زائد مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمر کسنی ہو گی، مدارس کی رجسٹریشن پر اتفاق ہو چکا ہے بس اس کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔ اجلاس میں قانون سازی تک مدارس پر چھاپوں اور ڈیٹا حاصل کرنے کا فیصلہ موخر کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔


بعض تجزیہ نگار اس بات پر معترض رہے ہیں کہ ہمارے ہاں مدارس کے قیام کا کبھی کوئی طریقہ کار نہیں رہا جس کا جہاں جی چاہا اس نے مدرسہ قائم کرلیا اور اس پر کبھی حکومتی کنٹرول نہیں رہا، مدارس کی اکثریت کا دہشت گردی سے کبھی تعلق نہیں رہا مگر بعض مدارس یا تنظیمیں جو دہشت گردی میں ملوث ہوئے ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، دہشت گردی کو فروغ ملتا رہا مگر حکومت اور اس کے اداروں نے اس سے آنکھیں موند رکھیں، دہشت گردی کے ذمے دار صرف چند ایک مدارس یا تنظیمیں ہی نہیں ہیں بلکہ حکومت اور اس کے ادارے بھی اس میں برابر کے حصہ دار ہیں۔

اب جب پانی سر سے گزر چکا ہے اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ لڑی جا رہی ہے تو حکومت کو خیال آیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بہرحال اگر اب ہی آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو اس پر فوری طور پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔مگر دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت کی پھرتیاں ابھی تک اجلاسوں اور بیانات ہی تک محدود ہیں عملی طور پر اس کی کارکردگی کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

وزیر داخلہ یہ کہہ تو رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ گلی محلوں تک آ گئی ہے مگر ابھی تک قوم کو یہ جنگ لڑنے کی حکمت عملی سے آگاہ نہیں کیا جا رہا، جب تک پوری قوم کو اس جنگ کے لیے تیار نہیں کیا جائے گا اسے جیتنا مشکل امر ہو گا۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے کیونکہ بے چہرہ دشمن گلی محلوں میں موجود ہے اور اس کا سراغ لگانے کے لیے عوامی تنظیموں کو متحرک کرنا ہو گا۔

علاوہ ازیں صدر مملکت ممنون حسین نے ہفتے کو کراچی میں پاکستان کے پہلے آلٹرنیٹو میڈیسن ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، دہشت گردوں نے دنیا بھر میں فساد پھیلایا ہوا ہے جنہوں نے اسلام کو بہت بدنام کیا، دہشت گرد سدھرنے والے نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی اور سب لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور پاکستان میں فتنہ پھیلانے والوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

اب تمام مذہبی جماعتوں نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے حکومت سے تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے تو انھیں عوامی سطح پر بھی اس ناسور کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا ہو گی، علماء کا معاشرے میں اہم مقام ہے اگر وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوام کو تیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک بہت بڑا طبقہ ان کا ساتھ دے گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دینی و مذہبی جماعتوں اور دینی مدارس کی تنظیموں نے مثبت کردار ادا کیا ہے، حکومت اور علماء کرام ایک پیج پر ہوں تو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو کہیں چھپنے کا ٹھکانہ نہیں ملے گا۔
Load Next Story