داستان عشق
زہرہ کے ہاتھوں کی مہندی کے رنگ ابھی پھیکے بھی نہ پڑے تھے کہ محمود ’’الرقہ‘‘ میں ایک حملے میں مارا گیا۔ ڈیزائن ارم شیخ
سوشل میڈیا پروقت گزاری کرتے ہوئے میری نظر''جہادی دلہن'' کے الفاظ پر پڑی۔ میں نے جب جہادی دلہن کی تفصیلات جاننے کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کیا تو جلد ہی ترک دوشیزہ زہرہ دومان کی تصویرمیرے سامنے آگئی۔ زہرہ دومان کی عمر 21 سال کے قریب ہے اور وہ ایک کالج کی طالبہ ہیں۔ زہرہ ایک آسٹریلوی جنگجو نوجوان محمودعبدالطیف کی محبت میں اس قدر گرفتارہوئیں کہ اپنے خاندان کو چھوڑ کر شام جیسے خطرناک محاذ پرپہنچ گئی اور پھر اُن کی محبت کا چرچا مغربی میڈیا کی زینت بن گیا۔
محمود عبدالطیف ایک پلے بوائے کے طورپر جانا جاتا تھا۔ یہ نوجوان اکثرنائٹ کلبوں میں ہونیوالی ڈانس پارٹیوں میں شریک ہوتا اور اُس کی بہت سے مداحوں میں زہرہ دومان بھی شامل تھی۔ عرب جریدے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق زہرہ اور محمود میں باہمی محبت کا آغاز اس وقت ہوا جب محمود آسٹریلیا کے نائٹ کلبوں میں موسیقی کی دھنوں پر رقص کرتا اور زہرہ اس کے رقص کی دیوانی تھی۔ یہ دوستی جلدہی محبت میں تبدیل ہوگئی اور بعد میں دونوں رشتہ زدواج میں منسلک ہوگئے۔
آسٹریلوی جریدے کی ایک رپورٹ کے مطابق زہرہ اورمحمود کے درمیان پہلی ملاقات میلبرن میں ہوئی اورپھر یہ ملاقاتیں دوستی میں تبدیل ہوگئیں۔ دونوں کے درمیان کئی برس ٹیلی فونک رابطہ بھی رہا، لیکن پھردونوں کی زندگی میں عجیب موڑآیا جب محمود اچانک غائب ہوگیا۔ زہرہ ہرجگہ اسے تلاش کرتی رہی اور پھر تقریباً 6 ماہ بعد اسے پتہ چلا کہ محمود عسکریت پسند تنظیم داعش میں شامل ہوچکا ہے۔ محمود نے اچانک آسٹریلیا میں عیش وعشرت کی زندگی ترک کی اور شام میں پہنچ کر دولت اسلامی ''داعش'' میں شامل ہوگیا۔ محمود اور زہرا کے درمیان شام کے محاذ جنگ سے بھی رابطے جاری تھے۔
کہتے ہیں کہ عشق کا بھوت سرپرسوارہوجائے توپھر وہ کچھ نہیں دیکھتا، تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ زہرہ بھی محمود کے عشق میں اس قدر دیوانی ہوئی کہ 4 ماہ قبل اپنے خاندان کو چپکے سے خیرباد کہہ کر شام میں موجود محمود عبداللطیف کے پاس پہنچ گئی۔ دسمبر2014 کے وسط میں دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ شادی کی تقریب شام کے شہر'' الرقہ'' میں ہوئی جہاں داعشی جنگجوئوں نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔
لیکن قدرت کو شاید زہرہ کا ابھی اورامتحان لینا تھا، اسے شادی کی خوشیاں راس نہ آئیں۔ شادی کے چند ہی ہفتوں کے بعد موت نے دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی ڈال دی۔ محمود ''الرقہ'' ہی میں ایک حملے میں مارا گیا۔ زہرہ کے ہاتھوں کی مہندی کے رنگ ابھی پھیکے بھی نہیں پڑے تھے کہ وہ بیوہ ہوگئی، لیکن زہرا اب بھی اپنے محبوب شوہر کی یادیں اپنے دل میں بسائے ہوئے ہے اوراپنی یادوں کو ٹوئٹر پر شیئر کرتی ہے۔ چند روز قبل اتوار زہرہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں محمود سے اپنی اٹوٹ محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی محبت میں جینے مرنے کا عزم کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ"سچی محبت موت سے بھی ختم نہیں ہوتی، ہماری محبت بھی حقیقی تھی جو ان شاء اللہ جنت میں بھی جاری رہے گی۔
یہ صرف ایک زہرہ اورمحمود کی کہانی نہیں ہے بلکہ یورپ کی درجنوں دوشیزائیں عسکریت پسندوں سے نکاح کے لئے اپنا گھربارچھوڑچکی ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 14 سے 15 سالہ لڑکیاں اس لئے شام کے لئے روانہ ہورہی ہیں تا کہ دہشتگرد عناصر کے ساتھ شادی کریں، صاحب اولاد ہوں اور جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ کریں۔
معاملہ صرف عسکریت پسندوں کے ساتھ نکاح یا ان کی میدان جنگ میں جنسی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں بلکہ جہادی خواتین اس لیے جنگجوؤں سے شادیاں رچارہی ہیں تاکہ ایک نئی ''جہادی نسل'' تیار کی جاسکے جو آنے والے وقتوں میں داعش کے مشن کو آگے بڑھا سکے۔
رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا اہم ترین ہتھیار سماجی ویب سائٹس ہیں۔ یہاں پر یہ نکتہ قابل اہمیت ہے کہ 10 فیصد لڑکیاں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے کے لئے یورپ کو ترک کررہی ہیں اور اس درمیان سب سے زیادہ فرانسیسی لڑکیاں اور خواتین ہیں، جو دہشتگرد گروہوں میں شامل ہورہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں 60 فرانسیسی لڑکیاں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے کے بعد شام روانہ ہوئی ہیں۔
برطانوی ماہرین کا خیال ہے ابھی تک 50 سے زیادہ برطانوی لڑکیاں دہشتگرد گروہ داعش میں شامل ہوچکی ہیں اور ان میں سے دس فیصد شام میں مسلحہ کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ ایک بین الاقوامی تحقیقاتی مرکز نے لکھا ہے کہ شام میں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے والی اکثر لڑکیوں کی عمریں 16 سے 22 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے اکثر لڑکیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور اس کا تعلق مالدار گھرانوں سے بتایا جاتا ہے اور وہ یورپی ملکوں میں بھر پور امکانات کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لڑکیاں آخرایسا کرکیوں رہی ہیں؟ اس کی بنیادی طورپرتین، چار وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مغربی ماحول اورعیش وعشرت میں پلی بڑھی لڑکیاں اکثرمذہب سے دور ہوجاتی ہیں، ایسی لڑکیوں کی ملاقات جب کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جو مذہب کے حوالے سے شدت کے جذبات رکھتا ہوں توایسی لڑکیاں پھرخود کو تبدیل کرلیتی ہیں۔
دوسری وجہ مسلمانوں کے ساتھ ہونیوالے مظالم بھی ہیں، پڑھی لکھی لڑکیاں یا لڑکے جب یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کیساتھ ظلم اورزیادتی ہورہی ہیں تو وہ اس کیخلاف آوازاٹھاتے ہوئے ایسے گروہوں کیساتھ شامل ہوجاتے ہیں جو ان مظالم اورزیادتیوں کیخلاف جدوجہد کررہے ہیں۔
بعض نوجوان لڑکے لڑکیوں کا شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے کی وجہ ایکشن فلمیں بھی ہیں۔ نوجوان نسل اپنے ہاتھوں سے ہتھیارچلانا چاہتے ہیں، وہ خود کو ایک ہیرو کے طورپرکام کرتے دیکھنا چاہتے ہیں جو ظلم وزیادتی کیخلاف ہتھیاراٹھاتے ہیں اور پھریہ جذبہ انہیں اس دھارے میں لے آتا ہے۔
ایک وجہ جو اب تک سب سے زیادہ سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لڑکیاں شدت پسندوں کی جدوجہد کو جہاد سمھجتی ہیں اورخود کو ان جہادیوں کے سامنے پیش کرتی ہیں تاکہ ان سے ایک نئی نسل پیدا ہوسکے۔ زہرہ اورمحمود کی محبت کے قصے عام ہونے پرناصرف یورپی ملکوں بلکہ بعض عرب ممالک میں جہادی خواتین پرسخت نظررکھی جارہی ہے تاکہ نام نہاد جہاد کی داعی داعش جیسی عالمی دہشتگرد تنظیم کوپھلنے پھولنے سے روکا جاسکے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔