ورلڈکپ کی تاریخ 2011 میں بھارت نے 28 برس بعد ٹرافی اپنے نام کی

ابتدامیں پاکستان بھی میگا ایونٹ کی میزبانی میں پاکستان بھی شامل تھا تاہم سیکیورٹی حالات کے پیش نظر اسے دستبردارہوناپڑا

2011 میں پہلی بار ایشیا کی دو ٹیموں نے فائنل میں رسائی حاصل کی، فوٹو: فائل

عالمی ورلڈ کپ کا 10 واں ایڈیشن بھارت نے جیت لیا، بلو شرٹس کو دوسرے ورلڈ ٹائتل کے لیے 28 برس کا انتظار کرنا پڑا۔

2011 میں منعقد کئے گئے میگا ایونٹ کی میزبانی میں ابتدائی طور پر پاکستان بھی شامل رہا، ابتدائی طور پر پاکستان کو ایک سیمی فائنل سمیت 14 میچز کی میزبانی دی گئی تھی، تاہم سیکیورٹی حالات کے پیش نظر اسے ایک معاہدے کے تحت میزبانی سے دستبردار ہونا پڑا، جس کے بعد بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا مشترکہ میزبان بنے۔

آئرلینڈ نے اس مرتبہ انگلینڈ کو اپ سیٹ شکست سے دوچار کیا، تاہم ایونٹ کا فارمیٹ مختلف ہونے کی وجہ سے آئرش ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کا حصہ نہیں بن پائی، ایونٹ میں شریک 14 ٹیموں نے مجموعی طور پر 49 میچز کھیلے، بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ کو ایونٹ کا بہترین پلیئر چنا گیا، سری لنکا کے تلکارتنے دلشان 550 رنز بنا کر کامیاب ترین بیٹسمین ثابت ہوئے جبکہ پاکستان ٹیم کی قیادت کرنے والےشاہد آفریدی نے 21 وکٹیں لیکر کامیاب بولر کا اعزاز پایا، بھارتی پیسر ظہیر خان بھی 21 شکار کرکے اس میں ان کے ساجھے دار بنے، ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب 17 فروری 2011 کو میرپور کے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔


پہلی بار ایشیا کی دو ٹیموں نے فائنل میں رسائی حاصل کی، میزبان بھارت نے فیصلہ کن معرکے میں سری لنکا کو 6 وکٹ سے شکست دیکر دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا، ابتدائی مرحلے میں 14 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، ہر گروپ سے چار ٹیمیں کوارٹر فائنل میں شرکت کی اہل قرار پائیں، میگا ایونٹ کا ٹائٹل سانگ ''دے گھماکے'' بھی خاصا مشہور ہوا، اسٹمپی کو میسکوٹ بنایا گیا، جس کی رونمائی 2 اپریل 2010 کو کولمبو میں منعقدہ تقریب میں کی گئی جبکہ اس کے نام کا باقاعدہ اعلان 2 اگست کو اان لائن کمپی ٹیشن کے ذریعے کیا گیا۔

موہالی میں سیمی فائنل کو دیکھنے کیلیے اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بطور خاص بھارت گئے، جہاں ان کے سابق بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ نے ان کا استقبال کیا تھا، اس مقابلے کو دیکھنے کیلیے بھارتی فلم اسٹار عامر خان بھی موہانی آئے، شاہد آفریدی کی زیر قیادت میدان میں اتارے جانے والی پاکستانی ٹیم نے ابتدائی مرحلے میں کھیلے گئے 6 میں سے 5 میچز جیتے، گرین شرٹس نے کینیا کو 205 رنز سے تختہ مشق بنایا، سری لنکا کیخلاف آفریدی الیون 11 رنز سے فتحیاب رہی، کینیڈا پر 46 رنز سے غلبہ پایا، زمبابوے کیخلاف گرین شرٹس 7 وکٹ سے کامیاب رہے۔

کولمبو میں آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے سامنے نہیں ٹھہر سکی، گرین شرٹس نے مقابلہ 4 وکٹ سے اپنے نام کیا، قومی ٹیم کو واحد شکست نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ملی، کیویز نے کینڈی میں منعقدہ مقابلہ 110 رنز سے جیتا۔ کوارٹر فائنل میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 10 وکٹ سے آؤٹ کلاس کردیا، لو اسکورنگ مقابلے میں کالی آندھی 112 پر ڈھیر ہوگئی، قومی ٹیم نے ہدف بغیر کوئی وکٹ گنوائے حاصل کرلیا، ہائی وولٹیج سیمی فائنل میں میزبان بھارت نے 29 رنز سے فتح سمیٹے ہوئے گرین شرٹس کو وطن واپسی پر مجبور کردیا، راؤنڈ 8 مرحلے میں بھارت نے آسٹریلیا کا قصہ تمام کیا، کیونز نے جنوبی افریقہ کو ٹھکانے لگایا، سری لنکا نے انگلینڈ کو قابو کیا۔
Load Next Story