گرمی سے بچنے کے لیے بادل نما ایئرکنڈیشنر سسٹم تیار کرلیا گیا

الٹرا سانک سینسرز اپنے نیچے سے گزرنے والے شخص پر فوری طور پر ٹھنڈک اور شبنم نما قطرے برسائیں گے

سسٹم کے نیچے سے گزرنے والے شخص کو نہ صرف خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوگا بلکہ یہ بھی محسوس ہوگا کہ کوئی ابر آلود بادل اس پر پھوار برسا رہا ہے، فوٹو سی این این

دبئی کے صحراؤں میں جسم کو جلا دینے والی گرمی میں کچھ دیر کام کرنا بھی لوہے کے چنے چبانے کے برابر ہوتا ہے اسی لیے تو وہاں چاہے شاپنگ سینٹر اور فیکٹری سمیت ہر عمارت میں ایئرکنڈیشن کو لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن اب سائنس دانوں نے اس کا بھی حل تلاش کرتے ہوئے ایسے ٹھنڈے بادل تیار کرلیے ہیں جو آپ کے ساتھ ساتھ چلیں گے اور شدید گرمی میں بھی آپ کو ٹھنڈک پہنچائیں گے۔

اگرچہ ٹھنڈی بھاپ سے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کا طریقہ نیا نہیں کیونکہ دبئی اور سعودی عرب میں عام طور پر بھینسوں اور دیگر جانوروں کے باڑوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن پہلی بار انجیئنرز نے ایسا سسٹم تیار کر لیا ہے جو بادل کی طرح آپ کے ساتھ موجود رہے گا اور جہاں جہاں آپ جائیں گے اس میں نکلنے والے شبنم نما قطرے آپ کو گرمی سے بچائیں گے اور آپ کے ارد گرد کا ماحول ٹھنڈا کردیں گے۔


اس منفرد سسٹم کو تیار کرنے والے سائنسدان کارلو راٹی کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کو شاپنگ سینٹرز اور راستوں پر نصب کردیا جائے گا اور جیسے ہی کوئی پیدل چلنے والا شخص اس کے نیچے سے گزرے گا تو اس میں لگے الٹرا سانک سینسرز فوری طور پرہائیڈرو پمپس کو فعال کردیں گےاور وہ ٹھنڈی بھاپ گزرے والے پر پھینکیں گے جس سے اس شخص کو فوری طور پر نہ صرف خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوگا بلکہ یہ بھی محسوس ہوگا کہ کوئی ابر آلود بادل اس پر پھوار برسا رہا ہے۔

دوسری جانب پراجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے نہ صرف پانی کا استعمال کم ہوگا بلکہ بجلی کے خرچے میں بھی کمی آئے گی کیونکہ یہ اسی وقت کام کرے گا جب کوئی اس سے نیچے سے گزرے گا۔ کارلو کا کہنا تھا کہ اس سے قبل عمارتوں سے باہر علاقے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جو روایتی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا اس میں بہت زیادہ پانی اور توانائی کی ضرورت ہوتی تھی لیکن اس نئے سسٹم نے اس مشکل کو بھی حل کردیا ہے۔

 
Load Next Story