مصری بلی کا قدیم مجسمہ 52 ہزار پاؤنڈز میں فروخت
کانسی سے بنا بلی کا یہ مجسمہ 2500 سال پرانا ہے اور یہ برطانیہ میں ایک مکان کو خالی کرنے کے دوران ملا تھا۔
نیلامی سے پہلے یہ مجسمہ پانچ ہزار پاؤنڈ سے10ہزار پاؤنڈ تک فروخت ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ فوٹو: فائل
QUETTA/ISLAMABAD:
برطانیہ میں بے کار سمجھ کی تقریباً پھینک ہی دیے جانے والا مصری بلی کا قدیم مجمسہ 52ہزار پاؤنڈز میں فروخت ہوا ہے۔
کانسی سے بنا بلی کا یہ مجسمہ 2500 سال پرانا ہے اور یہ برطانیہ میں ایک مکان کو خالی کرنے کے دوران ملا تھا۔ نایاب مجسمے کو لندن کے ایک تاجر نے خریدا ہے۔ نیلامی سے پہلے یہ مجسمہ پانچ ہزار پاؤنڈ سے10ہزار پاؤنڈ تک فروخت ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ نیلام گھر کے ایک اہلکار ڈیوڈ کے مطابق کانسی کی بلی کے اصل مالکان کو آثارِ قدیمہ سے ملنے والی اشیا کی قدر کا اندازا نہیں تھا اور وہ اسے پھینکنے ہی والے تھے۔
ڈیوڈ کے مطابق انھیں معلوم ہوا ہے کہ اس بلی کے مالک ڈگلس لڈل تھے جو2003ء میں انتقال کر گئے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مجمسے کی قدیم ہونے کی تصدیق برطانوی عجائب گھر کے ماہرین نے کی ہے۔ اس بلی کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہیکہ یہ تقریباً 700 قبلِ مسیح میں 26 ویں مصری شاہی خاندان کے دور کی ہے۔ نیلامی کرنے والے کا کہنا ہے کہ اس بلی کے اس مجمسے کو یقیناً مصر کی اعلیٰ ہستی نے مہنگے داموں بنوایا ہوگا۔
برطانیہ میں بے کار سمجھ کی تقریباً پھینک ہی دیے جانے والا مصری بلی کا قدیم مجمسہ 52ہزار پاؤنڈز میں فروخت ہوا ہے۔
کانسی سے بنا بلی کا یہ مجسمہ 2500 سال پرانا ہے اور یہ برطانیہ میں ایک مکان کو خالی کرنے کے دوران ملا تھا۔ نایاب مجسمے کو لندن کے ایک تاجر نے خریدا ہے۔ نیلامی سے پہلے یہ مجسمہ پانچ ہزار پاؤنڈ سے10ہزار پاؤنڈ تک فروخت ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ نیلام گھر کے ایک اہلکار ڈیوڈ کے مطابق کانسی کی بلی کے اصل مالکان کو آثارِ قدیمہ سے ملنے والی اشیا کی قدر کا اندازا نہیں تھا اور وہ اسے پھینکنے ہی والے تھے۔
ڈیوڈ کے مطابق انھیں معلوم ہوا ہے کہ اس بلی کے مالک ڈگلس لڈل تھے جو2003ء میں انتقال کر گئے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مجمسے کی قدیم ہونے کی تصدیق برطانوی عجائب گھر کے ماہرین نے کی ہے۔ اس بلی کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہیکہ یہ تقریباً 700 قبلِ مسیح میں 26 ویں مصری شاہی خاندان کے دور کی ہے۔ نیلامی کرنے والے کا کہنا ہے کہ اس بلی کے اس مجمسے کو یقیناً مصر کی اعلیٰ ہستی نے مہنگے داموں بنوایا ہوگا۔