اور اب ایک اور دروازے پر دستک

پرانے پاکستان کے پرانے پاپیوں اور پرانے باریوں والوں کی طرف سے نچنت ہو کر اپنے نئے پاکستان کی تعمیر میں لگ جائیے

barq@email.com

لگتا ہے ''بڑے گھر'' والے سو چکے ہیں یا کہیں گئے ہوئے ہیں یا بہرے ہو چکے ہیں کہ ہماری دستک پر کچھ بھی نہیں ہوا حالانکہ ہم نے کوئی سونا چاندی کے خزانے نہیں مانگے ''ایک پیسہ'' ہی مانگا تھا، سینیٹ کی ایک سیٹ ان کے لیے پیسے برابر ہی تو ہے لیکن کوئی بات نہیں، ملک خدا تنگ نیست و پائے گدا لنگ نیست ، ایک دروازہ نہیں کھلا تو کیا ہوا اگلا دروازہ بھی تو ہے چنانچہ بڑے دروازے میں نہیں سنی گئی تو قدم آگے بڑھاتے ہیں۔

جناب عمران خان بھی تو سخی داتا ہیں اور ہر کسی کے لیے ان کا در ہمیشہ کھلا رہتا ہے ایسا سنا ہے ہم نے ... اس لیے بسم اللہ ... جناب عمران خان صاحب! خدا آپ کی زندگی مزید خوش گوار بنائے کاروبار میں ترقی ہو گھریلو زندگی خوش گوار رہے، آپ ٹھیک کہتے ہیں جو بوہے باریوں والے ہیں یہ سب کے سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں سب کچھ آپس میں بانٹتے رہتے ہیں کسی آؤٹ سائیڈر کو کچھ بھی نہیں دیتے حالانکہ ہم نے دروازہ کھٹکا کھٹکا کر پورے محلے کو بیدار کیا لیکن واں ایک خامشی ترے سب کے جواب میں ... ارے خدا کے بندوں تمہارے لیے ایک سینیٹ کی سیٹ کیا ہے ایک ہمارے کشکول میں بھی ڈال دیتے نہ جانے کیسے کیسوں کو دیا ہے ایسے ایسوں کو دیا ہے جو نہ ایسوں میں ہیں نہ کیسوں میں اور نہ جیسوں میں بلکہ ہیوں میں ہیں نہ شیؤں میں، یہی تو وجہ ہے کہ ہمارے صوبے میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں صرف خالی پن چکیاں چلا رہی ہیں اگر ان ایسے ایسوں اور کیسے کیسوں کے بجائے ہمیں کچھ دیتے تو آج کم از کم کے پی کے، در و دیوار پر سبزہ ہی سبزہ اگ رہا ہوتا۔

اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیابان میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

سچ تو یہ ہے کہ ان سے ہمیں کچھ زیادہ امید بھی نہیں تھی کیوں کہ یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں لیکن چونکہ کافی پرانی یاد اللہ ان سے رہی تھی اس لیے ویسے ہی آزمانے کے لیے اور اتمام حجت کے لیے ایک درخواست بمراد سینیٹ کی نشست گزار دی، اچھا ہوا ویسے بھی ہم ان سے اپنے بچھڑے الگ کرنے والے تھے کیونکہ آج تک ہمیں ایک ریوڑی تک نہیں دی ساری آپس میں ہی بانٹتے رہے، ٹھیک ہے ہم وفادار نہ سہی لیکن وہ بھی تو دلدار نہیں نکلے۔

اصل بات بلکہ مقصود و مدعا وہی ہے جو پہلے عرض کر چکے ہیں یعنی سینیٹ کی صرف ایک سیٹ ہمارے نام کر دیجیے آپ کے ''ہو چکے'' اور ''ہونے والے'' بچوں کو دعائیں دیں گے

مرے ساقی میرا ایک کام کر دے
یہ مہ خانہ ہمارے نام کر دے

اس سے پہلے کہ آپ دل میں کچھ ایسے ویسے خیالات کو جگہ دیں کہ اس نکھٹو سے کیا ہاتھ آئے گا تو کیوں ایک قیمتی سیٹ اس پر ضایع کریں جو شخص سینیٹ کی سیٹ بھیک میں مانگ رہا ہو اس کی ذات کیا اور اوقات کیا؟ یہ بالکل درست ہے کہ ہمارا انداز بھکاریوں جیسا ہے لیکن کیا کریں ماحول اور صحبت کا اثر تو ہو ہی جاتا ہے۔


ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جہاں تقریباً ہر کسی کا پیشہ بھیک ہی ہے جو کچھ بھی ملتا ہے یا دیا جاتا ہے یا مانگا جاتا ہے وہ بھیک ہی کی صورت میں ہوتا ہے ''حق'' کے نام پر نہیں حالانکہ ہم خود ابتداء سے بھکاری نہیں ہیں علامہ اقبال کو پڑھ پڑھ کر ہم خودی کو بلند کرنے میں لگے ہوئے تھے لیکن پھر جب ایک دانائے راز نے بتایا کہ

ہم نے اقبال کا کہا مانا
اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں دیکھیں
ہم خودی کو بلند کرتے رہے

تب ہم بھی اس راہ پر لگ گئے جس پر ہماری حکومتیں ہمارا ملک ہماری پارٹیاں اور ہمارے سارے ''خودی'' کے خوگر تھے، ایک اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونکے گا لیکن افسوس بدنصیب کہیں بھی جائیں اپنی ناہنجار قسمت ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ہم بھکاری تو بن گئے لیکن کسی نے بھیک بھی جھولی میں نہیں ڈالی حالانکہ ہم حکومت نہیں تھے۔

جس کی جھولی میں سو چھید ہیں چھید تو تب ہوں گے جب بھیک ملے اور ملتی رہے جس جھولی میں بھیک پڑی ہی نہ ہو اس میں چھید کہاں سے آئیں گے، اب آپ کے در پر آئے ہیں اور بڑی توقعات لے کر آئے ہیں اور یہ سوچ کر آئے ہیں کہ پرانے پاکستان میں تو سب کچھ تقسیم کیا جا چکا ہے حصہ بقدر جثہ اپنے اپنے حصے مخصوص کیے جا چکے ہیں چنانچہ ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ

ریت کی اینٹ کی پتھر کی ہو یا مٹی کی
کسی دیوار کے سائے پہ بھروسا کیا ہے

ہاں یہ تو ہم نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ ہم کوئی نکمے نکھٹو نہیں بلکہ بڑی کام کی چیز ہیں یہ جو باریوں والے ہیں ان کو ہم چھٹی کا دودھ یاد دلا سکتے ہیں ایسے ایسے تیر برسائیں گے کہ ان کا ککھ بھی نہیں رہے گا، یہ ہمارے ہاتھ میں جو قلم ہے یہ کسی کلاشن کوف سے کم نہیں ہے وہ وہ ریپٹ بھاڑ ماریں گے کہ ٹھیک ایسی جھولیوں کی طرح چھید چھید ہو جائیں گے، باقی سب ہم پر چھوڑ دیں، پرانے پاکستان کے پرانے پاپیوں اور پرانے باریوں والوں کی طرف سے نچنت ہو کر اپنے نئے پاکستان کی تعمیر میں لگ جائیے ان سب کو سنبھالنا ہمارا کام ہے آپ صرف اتنا کر دیجیے کہ سینیٹ کی یہ ایک چھوٹی سی سیٹ ہمیں دلا دیجیے بس اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں مانگتے۔

پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار
رکھ دے کوئی پیمانہ و صہبا مرے آگے
Load Next Story