اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹرنگ ڈیسک مہنگائی میں کمی آگئی

توانائی کے شعبے کے پورے انتظامی ڈھانچے میں اصلاح ناگزیر ہے، حکومت مالیاتی اصلاحات میں تاخیرنہ کرے

حکومت نے437 ارب کے قرضے لیے،بیرونی رقوم کی کم آمد چیلنج ہے، اسٹیٹ بینک،پالیسی کا اطلاق 8 اکتوبرسے ہوگا۔ فوٹو: فائل

BUFFALLO, NY, US:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بنیادی شرح سود 50 بیسس پوائنٹ کم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پالیسی ڈسکائونٹ ریٹ 10.50فیصد سے کم ہوکر10فیصد کی سطح پرآگیا ہے۔

شرح سود کم کرنے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعے کوکراچی میں گورنراسٹیٹ بینک یاسین انورکی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیا۔جس کا اطلاق 8اکتوبر 2012سے کیا جائے گا۔اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق مہنگائی میں کمی کاسلسلہ مئی 2012 سے جاری ہے جس کے نتیجے میں ستمبر میں گرانی 8.8فیصد کی سطح پر آگئی ہے جس سے مالی سال 2012-13کے لیے 9.5فیصد کی گرانی کا ہدف حاصل ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے،گرانی میں کمی کے اثرات غذائی اشیا کے بعد غیرغذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی سے بھی ظاہر ہورہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں کمی سے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں اضافے میں مدد ملے گی۔ اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پائیداراقتصادی نموبحال کرنے کے لیے توانائی کے شعبے کے پورے انتظامی ڈھانچے کی اصلاح ناگزیر ہے، بینکاری نظام سے حکومت کے اضافی قرضوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے جامع مالیاتی اصلاحات میں مزید تاخیر نہ کی جائے، کم ہوتی ہوئی گرانی کے ساتھ نجی کاروباری اداروں کو قرضوں کی کمزور نمو کا سامنا ہے جس کے لیے شیڈول بینکوں کو اپنا کردار بہتر بنانا ہوگا۔

مانیٹری پالیسی کے مطابق اسٹیٹ بینک سے قرض گیری پر مسلسل نظر رکھنے اور جدولی بینکوں سے اضافی قرض گیری کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے جامع مالیاتی اصلاحات میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ جن میں ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنا، غیر ضروری زر اعانت (سبسڈیز) میں کمی اور جامع مالیاتی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر تعاون شامل ہیں۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ انہی نکات تک محدود رہا جائے۔حکومت کی جانب سے پہلی سہ ماہی میں اسٹیٹ بینک کو 412ارب روپے کے قرضے لوٹائے گئے جبکہ یکم جولائی سے 21ستمبر تک شیڈول بینکوں سے 437 ارب روپے کے قرضے لیے جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کی جانب لکویڈیٹی کی فراہمی کی مالیت پہلی سہ ماہی کے اختتام پر611.5ارب روپے تک پہنچ گی۔


مانیٹری پالیسی میں کہا گیا کہ قوزی گرانی (core inflation) کے 20 فیصد تراشیدہ اوسط (20 percent trimmed) پیمانے میں کمی، جو ستمبر 2012ء میں 10.4 فیصد تک پہنچ گیا، گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت میں کمی سے سست تر ہے۔ اس سے حالیہ کچھ عرصے میں رہنے والی بلند گرانی کے جمودی اثر (inertial effect) کی وجہ سے گرانی کی توقعات جاری رہنے، اسٹیٹ بینک سے مالیاتی قرض گیری میں اضافے کے مجموعی رجحان اور شرح مبادلہ میں کمی کا پتہ چلتا ہے۔ گرانی میں حالیہ کمی کے ساتھ مالی سال 13ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسٹیٹ بینک سے 412 ارب روپے کے مالیاتی قرض کی واپسی سے قوزی گرانی مزید کم ہوسکتی ہے جس کے گرانی کی توقعات پر مفید اثرات ہوں گے۔

مانیٹری پالیسی میں کہا گیا کہ پالیسی ریٹ میں 150 بی پی ایس کٹوتی کرنے کا بنیادی پس منظر کم ہوتی ہوئی گرانی کے ساتھ نجی کاروباری اداروں کو قرضوں کی کمزور نمو ہے۔اسٹیٹ بینک کا موجودہ مانیٹری پالیسی موقف وسیع تر سطح پر مالیاتی صورتحال میں بہتری، توانائی کی بہتر دستیابی، اور بیرونی رقوم میں اضافے کو اہمیت دیتا رہے گا۔ مانیٹری پالیسی میں کہا گیا کہ بیرونی رقوم کی کم آمد ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال کو درپیش اہم چیلنج ہے۔ دوسری طرف، جاری حسابات کا بیرونی توازن مختصر ہے اور سکڑ رہا ہے۔

درحقیقت مالی سال 13ء کے پہلے دو ماہ کے دوران اس میں 884 ملین ڈالر کی فاضل رقم آئی۔ اس کا بنیادی سبب ترسیلات میں شاندار نمو ہے، جولائی اور اگست 2012ء کے دوران 2.5 ارب ڈالر آئے، نیز اگست 2012ء میں اتحادی سپورٹ فنڈز (CSF) کے 1.12 ارب ڈالر وصول ہوئے۔ برآمدات کی نمو توانائی کی قلت اور کمزور عالمی معیشت کی رکاوٹوں کی وجہ سکڑ گئی۔ درآمدی نمو بھی سست ہو گئی ہے اور اس میں گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ہونے والا بیشتر اضافہ نرخوں کے اثرات کی بنا پرہے۔مانیٹری پالیسی میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کو قرضوں کی واپسی جدولی بینکوں سے خاصے قرض کے ذریعے ممکن ہوئی تھی۔ اس مد میں یکم جولائی تا 21 ستمبر مالی سال 13ء کے دوران 437 ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔

اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے سیالیت کے ادخال (liquidity injections) کی واجب الادا رقم مالی سال 13ء کی پہلی سہ ماہی کے آخر تک بڑھ کر 611.5 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ مانیٹری پالیسی کے مطابق ممکن ہے کہ یہ مناسب صورتحال نہ ہو لیکن موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی کسادبازاری سے بچنے کے لیے کچھ زر بنیاد (base money) کی تخلیق ضروری ہے۔ دوسرے ذریعے یعنی بینکاری نظام کے خالص بیرونی اثاثوں کے جمع ہونے سے زر کی تخلیق بیرونی رقوم کی کمزور آمد کے باعث مشکل ہے۔ اسی طرح ایس بی پی (ترمیمی) ایکٹ (2012ء) کے تحت ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک سے مالیاتی قرض گیری کے خالص بہاؤ کو کم از کم صفر پر رکھنا ضروری ہے۔

مالیاتی خسارے کے حجم میں کمی اور خاصے قرض کی ضرورت بھی جدولی بینکوں کے رویے پر اثرانداز ہوگی۔ فی الوقت جدولی بینکوں کے لیے نجی شعبے کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی خطرے کے بغیر حکومت کو قرض دینا آسان ہے۔ نجی شعبے کے کاروبار کے قرضوں میں سال بسال نمو مالی سال 08ء کے 22.4 فیصد سے گر کر مالی سال 12ء کے آخر تک 0.7 فیصد رہ گئی ہے۔مانیٹری پالیسی کے مطابق نجی شعبے، سرمایہ کاری اور وسط تا طویل مدت کی پائیدار اقتصادی نمو بحال کرنے کے لیے توانائی کے پورے شعبے کے انتظامی ڈھانچے کی مؤثر اصلاح ضروری ہے۔سیالیت کے انتظام کے فریم ورک کو مضبوط کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بعض اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جن کی تفصیل علیحدہ جاری کی جارہی ہے۔
Load Next Story