جمہوریہ وسطی افریقا کی خانہ جنگی میں تمام مساجد شہید کردی گئیں
علاقے میں خوفزدہ مسلم خواتین چہرہ چھپائے اپنے بچوں کو گھروں پر جنم دے رہی ہیں
دسمبر2013 میں شروع ہونے والے فسادات میں اب تک 5 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، فوٹو:فائل
KARACHI:
جمہوری وسطی افریقا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مہینوں سے جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس تنازعے میں ساڑھے 4 لاکھ افراد دربدر ہونے کے علاوہ علاقے میں قائم تمام مساجد بھی شہید کی جاچکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے وفد نے علاقے کے دورہ کیا جس کے بعد امریکی سفیر سمانتھا پاور نے جمہوری وسطی افریقا کی تباہی کو''سنسنی خیز اور حیوانی عمل '' قرار دیا ہے انہوں نے یورپی یونین اور فرانسیسی فورسز کے جانے کے بعد وہاں موجود سیکیورٹی خلا پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں موجود اقوام متحدہ کی فوج کو بھی ناکافی قراردیا۔
سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ دسمبر2013 میں شروع ہونے والے فسادات میں اب تک 5 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ علاقے میں موجود 4 لاکھ کے قریب افراد دربدر ہوچکے ہیں اس کے علاوہ تمام مساجد بھی شہید کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب خانہ جنگی کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور جمہوری وسطی افریقا کے دارالحکومت میں خواتین اسپتال کے بجائے گھروں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ فرانس نے اپنی اس سابقہ کالونی میں 2 ہزارامن فوجی تعینات کیے تھے جن کی تعداد میں اب کمی کی جارہی ہے جب کہ یورپی یونین کے صرف 750 فوجی علاقے میں موجود ہیںتاہم گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید ایک ہزار فوجی بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا ۔دارالحکومت میں خوفزدہ مسلم خواتین چہرہ چھپائے اپنے بچوں کو گھروں پر جنم دے رہی ہیں۔
جمہوری وسطی افریقا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مہینوں سے جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس تنازعے میں ساڑھے 4 لاکھ افراد دربدر ہونے کے علاوہ علاقے میں قائم تمام مساجد بھی شہید کی جاچکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے وفد نے علاقے کے دورہ کیا جس کے بعد امریکی سفیر سمانتھا پاور نے جمہوری وسطی افریقا کی تباہی کو''سنسنی خیز اور حیوانی عمل '' قرار دیا ہے انہوں نے یورپی یونین اور فرانسیسی فورسز کے جانے کے بعد وہاں موجود سیکیورٹی خلا پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں موجود اقوام متحدہ کی فوج کو بھی ناکافی قراردیا۔
سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ دسمبر2013 میں شروع ہونے والے فسادات میں اب تک 5 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ علاقے میں موجود 4 لاکھ کے قریب افراد دربدر ہوچکے ہیں اس کے علاوہ تمام مساجد بھی شہید کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب خانہ جنگی کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور جمہوری وسطی افریقا کے دارالحکومت میں خواتین اسپتال کے بجائے گھروں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ فرانس نے اپنی اس سابقہ کالونی میں 2 ہزارامن فوجی تعینات کیے تھے جن کی تعداد میں اب کمی کی جارہی ہے جب کہ یورپی یونین کے صرف 750 فوجی علاقے میں موجود ہیںتاہم گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید ایک ہزار فوجی بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا ۔دارالحکومت میں خوفزدہ مسلم خواتین چہرہ چھپائے اپنے بچوں کو گھروں پر جنم دے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ فرانس نے اپنی اس سابقہ کالونی میں 2 ہزارامن فوجی تعینات کیے تھے جن کی تعداد میں اب کمی کی جارہی ہے جب کہ یورپی یونین کے صرف 750 فوجی علاقے میں موجود ہیںتاہم گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید ایک ہزار فوجی بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا۔