امریکی ایئرپورٹ پر مسافروں کے چہرے پڑھنے والے ماہر افسران تعینات

یہ افسران اتنے ماہر ہیں کہ مسافر سے صرف 30 سیکنڈ تک بات کرکے تقریباً 90 رویوں اور برتاؤ کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

ایئرپورٹس پر ایسے ماہرین بھرتی کیے گئے جو مشکوک افراد کے چہرے پڑھتے رہتے ہیں، فائل: فوٹو

KARACHI:
امریکا کے کسی بھی ایئرپورٹ پر مسافروں کے چہرے کے تاثرات اب ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں اوراسی بنیاد پر نہ صرف ان سے سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کی اسکریننگ کے علاوہ انہیں پولیس کے حوالے بھی کیا جاسکتا ہے۔


امریکا میں ٹرانس پورٹ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) نے ایئرپورٹس پر ایسے ماہرین بھرتی کیے ہیں جو مسافروں کے' رویئے' پر نظر رکھنے کے لیے مسلسل مشکوک افراد کے چہرے پڑھتے رہتے ہیں، اس پروگرام کو ''اسکریننگ پیسنجرز بائے آبزرویشن تکنیک''(SPOT) کا نام دیا گیا ہے جس میں کوئی افسر مسافر سے بات کرتے ہوئے اس کے چہرے پر چند سیکنڈز تک آنے والے خوف، دباؤ اور جھوٹ کے احساسات کو بھانپ لے گا، یہ افسر اتنے ماہر ہیں کہ مسافر سے صرف 30 سیکنڈ تک بات کرکے تقریباً 90 رویوں اور برتاؤ کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر پہلے افسر کو مزید شک ہوجائے تو وہ مسافر کو مزید کارروائی کے لیے دوسرے افسر کے حوالے کرسکتا ہے اور ان جذبات کو 'مائیکرو ایکسپریشنز' کا نام دیا گیا ہے جو آپ کے چھپانے سے قبل ہی چند سیکنڈوں کے لیے چہرے پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کے متعدد اداروں نے اس حکومتی پروگرام پر شدید تنقید کی ہے اور اسے پیسے اور وقت کا زیاں قرار دیا ہے کیونکہ امریکا کے مصروف ترین ایئرپورٹس پر لوگ پہلے ہی بہت دباؤ میں ہوتے ہیں۔ حکومتی احتساب ادارے کے مطابق اس عمل میں سائنسی ثبوت بہت کم ہیں اور اسی بنیاد پر کانگریس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پروگرام کی فنڈنگ روک دے تاہم اب تک یہ منصوبہ جاری ہے اور اب تک اس پر اربوں روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔
Load Next Story